گناہ و ناجائز

غیر قانونی طور پر بجلی کے دو میٹر لگوانا

فتوی نمبر :
70500
| تاریخ :
2024-01-23
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

غیر قانونی طور پر بجلی کے دو میٹر لگوانا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! حضرت مسئلہ یہ ہے کےاس دور میں بجلی کے بل بہت آتے ہیں، حکومت نے پسے ہوئے نچلے طبقے کو ریلیف دینے کے لئے یونٹوں کے حساب سے بل کے ریٹ رکھے ہیں، جیسے 100 سے نیچے یونٹ تک تقریبا 7 روپے فی یونٹ ہے، اور 200 تک 14 روپے تمام یونٹوں کے، 300 تک 23 روپے اور 400 تک 27 روپے علاوہ ٹیکس ہوتے ہیں،اب کچھ لوگ سستا ریٹ لینے کے لئے دو یا تین میٹر لگوا لیتے ہیں اور گھر کا لوڈ تقسیم کر دیتے ہیں جس سے علیحدہ علیحدہ یونٹ شمار ہوتے ہیں اور بل آدھے سے بھی کم رہ جاتا ہے یا بہت فرق پڑتا ہے،حکومت نے ایک گھر میں ایک میٹر کی شرط رکھی ہے لیکن لوکل انتظامیہ یا واپڈا میں جان پہچان کی وجہ سے ایک سے زائد میٹر بھی لگ رہے ہیں،کیا اس طرح دو میٹر لگوا کر بل میں بچت کرنا جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر حکومت کی طرف سےایک گھر میں ایک سے زائد میٹر لگانے کی اجازت نہ ہو ،تو لوکل انتظامیہ یا واپڈا میں جان پہچان کی وجہ سے یا رشوت دے کر بل کم کرنے کے لئے ایک سے زائد میٹر لگوانا جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی احکام القران للجصاص: قال اللہ تعالیٰ (یا ایھا الذین اٰمنوا أطیعوا اللہ و أطیعوا الرسول و اولی الامر منکم ) ومن الناس من يقول إن الأظهر من أولى الأمر هاهنا أنهم الأمراء لأنه قدم ذكر الأمر بالعدل وهذا خطاب لمن يملك تنفيذ الأحكام وهم الأمراء والقضاة ثم عطف عليه الأمر بطاعة أولي الأمر وهم ولاة الأمر الذين يحكمون عليهم ماداموا عدولا مرضيين وليس يمتنع أن يكون ذلك أمرا بطاعة الفريقين من أولي الأمر وهم أمراء السرايا والعلماء إذ ليس في تقدم الأمر بالحكم بالعدل ما يوجب الاقتصار بالأمر بطاعة أولي الأمر على الأمراء دون غيرهم الخ ( باب فی طاعۃ اولی الامر ، ج 2 ، ص 210 ، ط : سھیل اکیڈمی)۔
و فی جامع الترمذی : عن ابی ھریرۃ قال : لعن رسول اللہﷺ الراشی و المرتشی فی الحکم ( رقم الحدیث ، 1385 ، ص 597 ، ط : مؤسسۃ الرسالۃ ) ۔
و فی رد المحتار تحت : ( قولہ اخذ القضاء برشوۃ ) ( الی قولہ ) ما یعطیہ الشخص الحاکم و غیرہ لیحکم لہ او یحملہ علی ما یرید ( الی قولہ ) منھا ما ھو حرام علی الآخذ و المعطی و ھو الرشوۃ علی تقلید القضاء و الامارۃ ، و الثانی : ارتشاء القاضی لیحکم و ھو کذلک و لو القضاء بحق لانہ واجب علیہ الخ ( مطلب فی الکلام علی الرشوۃ ، ج 5 ، ص 362 ، ط : سعید ) ۔ واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70500کی تصدیق کریں
0     1303
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات