بندہ نے مواعظ عبیدیہ جو کہ حضرت مولانا عبید اللہ بلیاوی نور اللہ مرقدہ کے مواعظ ہیں ، میں نے پڑھا کہ حضرت نے فرمایا محققین اور مفسرین نے لکھا ہے کہ حدیث پاک میں جو آیا ہے کہ قیامت میں حافظ قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتے جا اور چڑھتے جا ،مگر حافظ اتنا ہی پڑھ پائے گا جتنے پر دنیا میں اس کا عمل ہوگااگر یہ صحیح ہے، تو حوالہ بتادیں۔
مواعظ عبیدیہ میں مذکور روایت مبارکہ کی ذکر کردہ تشریح درست اور شراح حدیث سے منقول ہے ، ذیل میں اس کے حوالہ جات نقل کئے جاتے ہیں ۔
کما فی تحفۃ الابرار شرح مصابیح السنۃ: ذکر العلامۃ ناصر الدین البیضاوی فی تحفۃ الابرار : درج الجنۃ بعدد آی القرآن،والقراء یتصاعدون بقدرھا، فمن قرأ مئۃ آیۃ مثلا کان منزلہ عند آخر آیۃ یقرؤھا، وھی المئۃ من الدرجات، ومن حفظ جمیع القرآں کان منزلہ الدرجۃ الاقصی من درجات الجنان، وھذا للقاریء الذی یقرؤہ حق قراءتہ، وھو ان یتدبر معناہ، ویاتی بما ھو مقتضاہ، لا الذی یقرأ، والقرآن یلعنہ(ج 1 ص 532 ط: وزارۃ الاوقاف والشئون الاسلامیۃ بالکویت)۔
وفی الکاشف عن حقائق السنن : وصاحب القرآن ھو الملازم لہ بالھمۃ والعیانۃ،ویکون ذلک تارۃ بالحفظ والتلاوۃ،وتارۃ بالتدبر لہ والعمل بہ (الی قولہ)وان ذھبنا الی الثانی(ای المعانی الثانی وھو الملازم للقرآن بالتدبر لہ والعمل بہ)۔وھو احق الوجھین واتمھا۔فالمراد من الدرجات التی یستحقھا بالایات سائرھا ، وحینئذ تقدر التلاوۃ فی القیامۃ علی مقدار العمل ، فلا یستطیع احد ان یتلو بہ الا وقد قام بما یجب علیہ فیھا واستکمال ذلک انما یکون للنبی ﷺ ثم للامۃ بعدہ علی مراتبھم ومنازلھم فی الدین،کل منھم یقرأ علی مقدار ملازمتہ ایاہ تدبرا وعملا الخ(ج 5 ص 1654ط: مکتبۃ نزار مصطفی الباز)۔