السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ میری خلع ہوئی ہے کورٹ سے 5 جنوری کو اور میرے شوہر 3سال سے ملک سے باہر ہیں، میرا اور ان کا ملنا نہیں ہواہے، تو اگر عدت 3 حیض بنتی ہے تو جس دن خلع ہوئی تب میرا حیض کا پہلا دن تھا ، تو وہ اس میں شمار ہوگا یا نہیں؟ اور اگرایک حیض عدت ہوگئی تو کیا عدت پوری ہوچکی ہے؟
سائلہ نے سوال میں یہ وضاحت نہیں کی کہ سائلہ نے اپنے شوہر یا اس کے مقرر کردہ وکیل کی اجازت و رضامندی سے خلع لیا ہے یا شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر اس نے خلع وصول کیا ہے،تاکہ اسکے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر سائلہ نے شوہر کی اجازت ورضامندی کے بغیر بذریعہ عدالت یکطرفہ طورپر خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو چونکہ خلع کے لئے بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے اس لئے یکطرفہ عدالتی خلع کے ذریعے شرعاً سائلہ کا نکاح ختم نہیں ہوابلکہ وہ بدستور بر قرار ہے، البتہ اگر سائلہ نے شوہر یا اس کے مقرر کردہ وکیل کی اجازت اور رضامندی سے عدالت سے خلع کی ڈگری وصول کی ہو تو وہ شرعاً معتبر ہوگا اور اس سے سائلہ پر ایک طلاق ِبائن واقع ہوگی، جس کے بعد سائلہ کے ذمہ عدت گزار نا لازم ہوگا،تاہم جس حیض میں خلع ہوا ہو وہ حیض عدت میں شمار نہ ہوگا، بلکہ سائلہ کے ذمہ اسکے علاوہ تین ماہواریاں پوری کرکے عدت گزرنا لازم ہوگا۔
كما في أحكام القرآن للجصاص: قال انهما لايجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا لیس للحكمين أن يفرقا الا برضى الزوجين لان الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وانما الحكمان وكيلان لهما أحدها وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع ( إلى قولہ) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرج المال عن ملكها اهـ ( ج ۳ ص ١٥٣)۔
وفي المبسوط : (قال) والخلع جائز عند السلطان وغيره لأنه عقد التراضي كسائر العقود وهو بمنزلة الطلاق بعوض (ج6، ص ۱۷۳، ط: العلمية)۔
وفي التاتارخانية: الخلع عقد يفتقر إلى الإيجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض ( ج ۳ ، ص 453، ط:ادارۃ القرآن)۔
وفي الهندية: اذا طلق إمرأته في حالة الحيض كان الاعتداد بثلاث حیض کوامل ولا تحتسب ھذہ الحیضۃ من العدۃ کذا فی الظہیرۃ اھ ( ج 1، ص 527، ط:ماجدیہ)۔