میں دو دن کے لئے تبلیغ میں جانا چاہتا ہوں میرے والدین سخت مخالفت کر تے ہیں ، اور مجھے نہیں جانے دے رہے ہیں, ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیئے ؟
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کے والدین اسے تبلیغ میں جانے کی اجازت کیوں نہیں دے رہے ہیں ، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر سائل کے والدین عمر کے اس حصہ میں پہنچ چکے ہوں کہ انہیں سائل کی خدمت کی ضرورت ہو اور سائل کے علاوہ ان کی خدمت اور دیکھ بال کے لئے کوئی اور موجود نہ ہو یا والدین کو کسی دوسرے بندے کی خدمت پر اطمینان نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کو والدین کی خدمت سعادت سمجھ کر کرنی چاہیئے اور یہ زیادہ باعثِ اجر و ثواب ہے ، اور اگر سائل کے والدین کو خدمت کی ضرورت نہ ہو یا سائل کے علاوہ کوئی اور بندہ خدمت کے لئے موجود ہو تو ایسی صورتِ حال میں سائل کو چاہیئے کہ وہ والدین کی خوب خدمت اور اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں نکلنے کے فضائل اور مختلف جماعتوں کی کارگزاریاں سنائے ، ان کے ساتھ بحث و مباحثہ نہ کرے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے علاقہ کی سطح پر اعمال میں بھی جڑتا رہے ، اور والدین کے دل کی نرمی کی مسلسل دعا بھی کرتا رہے ، ان شاء اللہ وہ ضرور اجازت دیں گے ، اور جب وہ اجازت دیدیں تو پھر سائل کم و بیش اوقات کے لئے بھی نکل سکے گا اور سائل کا یہ فعل معمولی دل آزاری کا سبب بھی نہ ہو گا ۔
کما فی الھندیۃ : وقال محمد رحمه الله تعالى في السير الكبير إذا أراد الرجل أن يسافر إلى غير الجهاد لتجارة أو حج أو عمرة و كره ذلك أبواه فإن كان يخاف الضيعة عليهما بأن كانا معسرين و نفقتهما عليه و ماله لا يفي بالزاد و الراحلة و نفقتهما فإنه لا يخرج بغير إذنهما سواء كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه كركوب السفينة في البحر أو دخول البادية ماشيا في البرد أو الحر الشديدين أو لا يخاف على الولد الهلاك فيه و إن كان لا يخاف الضيعة عليهما بأن كانا موسرين و لم تكن نفقتهما عليه إن كان سفرا لا يخاف على الولد الهلاك فيه كان له أن يخرج بغير إذنهما و إن كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه لا يخرج إلا بإذنهما كذا في الذخيرةاھ ( باب فی الرجل یخرج الی السفر ، ج 5 ، ص 365 ، ط : ماجدیہ ) ۔