کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا بڑا بیٹا محمد اعجاز گھر آیا، اس کی بیوی نے کپڑے دھوئے اور گھر میں لٹکادئیے تھے جو جھگڑے کا سبب بنا اور وہ اس طرح کہ چھوٹے بھائی کی بیوی نے کہا کہ اپنے کپڑے ایک طرف ڈال دو پھر کہتے ہو کہ کپڑے گندے کردئیے اس سلسلہ میں کچھ مزید تکرار ہوئی جس پر اعجاز نے اپنے چھوٹے بھائی کو دروازہ بند کرنے پر مارا اور میں نے اس کو چھڑانے کی کوشش کی اس طرح میں نے اسے گھر بھیج دیا مگر پھر وہ دوبارہ آیا، میں (اس کا والد) بیٹھا ہوا تھا، اس نے آکر میرے منہ پر ایک مکا مارا اور خود ہی گھر سے نکل گیا اور پھر تین چار دن بعد آکر گھر سے اپنا سامان نکال کر لے گیا، اس وقت میں نے اس سے کہا کہ میں تمہیں عاق کرتا ہوں اپنی جائیداد وغیرہ سے محروم کرتا ہوں اور تمہارے خلاف ایف آئی آر کٹواتا ہوں اور میں نے مذکور مضمون اخبار میں دے دیا، اس کے تین ماہ بعد وہ ایک خاتون کے ساتھ آیا اور خاتون نے کہا کہ یہ تم سے معافی مانگنے آیا ہے اور اس نے میری داڑھی کو ہاتھ لگایا اور زبان سے کچھ نہیں کہا، پھر میں نے کہا یہ معافی مانگنے کا طریقہ نہیں ہے اس کے بعد پھر وہ چلا گیا اور آٹھ ماہ بعد اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک قتل کا ارتکاب کیا جس کے نتیجہ میں اب وہ جیل میں بند ہے اس کی دولڑکیاں اور ایک لڑکا میرے پاس رہ رہے ہیں اور اس کی بیوی اپنے والدین کے گھر چلی گئی ہے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ شرعاً ایسے نافرمان بیٹے کا کیا حکم ہے؟ اور میں نے جو عاق کیا ہے اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟ اور اب مجھے بیٹے کے ساتھ کیا رویہ رکھنا چاہئے؟ بینوا توجروا
صورتِ مسئولہ میں مذکور بیٹے کا اپنے والد پر ہاتھ اُٹھانا انتہائی قبیح ترین حرکت اور بہت سخت گناہ کی بات ہے اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کرے اور اپنے والد سے بھی دست بستہ معافی مانگے اور والد کو بھی چاہئے کہ اگر اس میں واقعی ندامت محسوس کرے تو تہہ دل سے اسے معاف کرے تاکہ وہ اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرے اور آخرت کے وبال سے بھی بچ جائے، جبکہ زبانی طور پر عاق کرنے کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں اور والد کے اس طرح عاق کرنے سے وہ حصۂ میراث سے محروم بھی نہیں ہوا۔
قال تعالٰی: ولا تقل لہما اف ولا تنہرہما وقل لہما قولا کریما۔ (بنی اسرائیل آیت ۳۲)-
قال تعالٰی: واعبدوا اﷲ ولا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا۔ (سورۃ النساء)-
وقال تعالٰی: ووصینا الإنسان بوالدیہ احسانا وان جاہداک لتشرک بی۔ الایۃ (سورۂ عنکبوت)-
فی الترغیب: عن ابی ہریرۃ قال: قال رسول اﷲ ﷺ ألا انبئکم باکبر الکبائر ثلاثا؟ قلنا بلٰی یا رسول اﷲ، قال: الا شراک باﷲ وعقوق الوالدین۔ الحدیث
وعن عبد اﷲ بن عمرو بن العاصؓ عن النبی ﷺ قال: ثلاثۃ لا ینظر اﷲ الیہم یوم القیامۃ: العاق لوالدیہ۔ الحدیث (ج۳، ص۳۲۶۔۳۲۷)