میری والدہ پچھلےسات سال سے بیمار ہیں اور بیڈ پر ہیں،میں ان کےکام کرتی ہوں جتنی بھی اللہ نے توفیق دی ہے،الحمدللہ مجھے مسئلہ نہیں اس سب میں،میرے دو بھائی اور ایک بہن اور بھی ہیں گھر میں،لیکن وہ خدمت کا کام نہیں کرتے امی کی(بہن بالکل نہیں کرتی اور بھائی کر نہیں سکتے،امی ڈائپرز پر ہیں اس لیے)میں چوبیس گھنٹے ان کے ساتھ ہوتی ہوں،اب وہ جسمانی بیماری کے علاوہ ذہنی طور پر بھی بہت بیمار رہنے لگی ہیں،اور چار سے چھ بار ایک ہی بات کہنی پڑتی ہے،یا اُونچی آواز میں بات کرو،تب ہی انہیں سمجھ میں آتا ہے،بے وجہ آوازیں دینا جبکہ کام بھی نہ ہوتو اس طرح بہت مشکل کا سامنا ہے،بہت پریشان ہوں،اکثر وبیشتر میری آواز اُونچی ہوجاتی ہے نا چاہتے ہوئے بھی،کبھی تو ڈانٹنا یا آواز اُونچی کرنا،باربار ایک بات کہناضروری ہوجاتا ہےکہ انہیں انسولین لگانی ہے یا میڈیسن دینی ہیں،زبردستی کرنی پڑتی ہے،ورنہ وہ مانتی نہیں ہیں،بہت پریشانی والی کیفیت ہے،اس سب کے بعد مجھے اپنی دنیا اور آخرت کا سوچ کر بہت ڈر لگتا ہے،میں الحمدللہ نمازی اور تہجد گزار بھی ہوں،بہت توبہ کرتی ہوں،لیکن پھر دوبارہ امی کے آگے کچھ ایسا ہوجاتا ہے،جس کے بعد مجھے بہت افسوس ہوتا ہے۔مجھے بتائیں کہ میں کس حد تک سختی کرسکتی ہوں؟یقین کریں یہ سختی یا زبردستی یا آواز اُونچی کرنا،یہ سب ان کی بہتری کے کاموں میں ہوتا ہےمجھ سے ،کہ وہ بات سن لیں ،جس میں ان کا فائدہ ہے۔
مسئولہ صورت میں سائلہ کا اپنی والدہ کے ساتھ مذکور رویّہ اختیار کرنے سےاگر ان کی بے ادبی اور بے اکرامی کا قصد نہ ہو،بلکہ والدہ کی بہتری کےلیے وہ ایسا کررہی ہو(جیسا کہ سوال میں بھی تفصیل سے لکھا گیا ہے)،تو ایسی صورت میں بقدرِ ضرورت سائلہ کےلیے ایسا رویّہ اختیار کرنے کی شرعاً گنجائش ہے،اور امید ہے کہ سائلہ گناہ گار بھی نہ ہوگی،تاہم اس کے باوجود بھی اگر سائلہ اپنی والدہ کے ساتھ پیارومحبت اور نرمی سے پیش آئے،تو یہ دوگنے اجر اور سعادت کا باعث ہوگا۔