جناب عالی! میرے سسر جناب محمد فرید خان صاحب (عمر تقریباً ۸۰ سال) اپنی بیٹیوں اور بہؤوں کو پریشان کرکے ان کے اوپر چھوٹی تہمتیں لگاتا ہے ، اپنی اہلیہ کو آٹھ سال پہلے جان سے مارنے کی کوشش کی تو لڑکوں نے والدہ صاحب کو الگ کر کے اوپر چھت پر لے گئے ، والد صاحب چھوٹ سیڑھیاں (جو گاؤں میں لکڑی کی بنی ہوتی ہیں) کلہاڑی لیکر اس کے اوپر چڑھنے کی کوشش کی جس سے پھسل کر سسر صاحب معمولی ذخمی ہوگئے ، گاؤں والوں نے درمیان میں پڑ کر اور جھوٹ موٹھ کہہ کر کہ بابا! ہم آپ کو دس۱۰ لاکھ روپے کا چیک دیں گے ان دونوں کا راضی نامہ کرادیا ، پندرہ سال سے فرید صاحب کسی قسم کا کام کاج نہیں کرتا ، اس پندرہ سال کے دوران نہ اس نے اپنی اہلیہ کو خرچہ دیا ہے، پانچ بیٹے اور دو بیٹوں کی شادی بھی ان کے بڑے بھائی شمشیر نے کی ہے ، جبکہ ایک بیٹا چھوٹا رضا خان غیر شادی شدہ ہے اس کیلئے بھی کسی قسم کا فکر مند نہیں ہے ، میں تین سال کے عرصے تک اپنے سسر کو اپنے پاس رکھا اب لوگوں کے ورغلانے اور خود ذہنی کمزوری کی بنا پر دس ۱۰ لاکھ روپے کا مطالبہ اپنے بیٹوں سے کرتا ہے ، جبکہ بیٹوں کو ان مطالبوں کا پتہ نہیں ، اب میرے سسر صاحب سب کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا ہے تم کو بھی جان سے ماردوں گا اور خود کو بھی قتل کردونگا بڑے بیٹے نے دس برس قبل سے بھائیوں کے ساتھ ملکر ایک مشتر کہ مکان بنایا تھا جسکو بھی اس نے اونے پونے بیچ دیا ہے پانچ لاکھ روپے کا مکان ڈیڑھ لاکھ میں بیچ دیا ، مکان کے عوض ملی ہوئی رقم بھی دوسرے لوگوں نے ادھر ادھر کردی ، پھر اس نے دوسال بعد اپنے بڑے بیٹے سے مطالبہ کیا کہ میر لیے ایک مکان خریدو جس کی ملکیت آپ ہی کی ہوگی اور کرایہ وغیرہ سے میں اپنا گزر اوقات کروں گا ، اس کے بعد میرے سسر نے اپنے بیٹے کا وہ مکان خفیہ طور پر اپنے نام لیز کرالیا ، اب وہ لوگوں کے ورغلانے پر دوبارہ اس مکان کو اونے پونے فروخت کرنا چاہتا ہے ہمیں اس کے مکان کے فروخت پر کوئی اعتراض نہیں لیکن گلی کوچوں میں ہماری اور ہماری بہو بیٹیوں کی بے عزتی نہ کرے سر عام روڈوں پر گالیاں دیتا ہے ، کہتا ہے کہ میں اس مکان کو بیچ کر اپنی اہلیہ کو جو گاوں میں ہے قتل کرواؤ نگا اور بیٹوں سے یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ میرے لیے شادی کا بندوبست کرو ، بیٹے اس کا نکاح سے انکار نہیں کرتے ہیں، لیکن وہ یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ تم اس کے سارے اخراجات برداشت کروگے اور مجھے پانچ ہزار روپیہ ماہوار بھی دوگے مولانا صاحب! یہ مزدوری کرنے کا ملک ہے ، جو کام ہمارے سسر کو کرنے تھے وہ اس کے بڑے بیٹے نے کر دیئے لیکن اس کے باوجود میرے سسر صاحب نے عرصہ ۲۰ سال میں نہ اپنے بیٹوں کو ایک پیسہ دیا اور نہ اپنی اہلیہ کو اور نہ وہ اپنی اہلیہ کی حق کو تسلیم کرتا ہے اور نہ اس کے دوا دارو پسند کرتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ شریعت کی روشنی میں والد صاحب کا اپنے بیٹوں سے مطالبہ جائز ہے یا نہیں ؟ اور بیٹے بیٹیوں کی شادی کے تمام اخراجات کیا والد کے ذمہ نہیں ہیں؟ کیا اس طرح کے مطالبات جائز ہیں؟ جبکہ بیٹے صوم صلو ۃ کے پابند ہیں اور مزدوری وغیرہ کر کے کھاتے کماتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اپنے بیٹوں کو طرح طرح کے مطالبات سے پریشان کرتا رہتا ہے اسلیے آپ جناب شریعت کی روشنی میں مسئلے کا حل بتائیں کہ والد کے اس جیسے رویے کا شریعت میں کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ سے متعلق مسائل کا زبانی اور تحریری بیان اگر واقعۃً درست اور حقیقت پر مبنی ہو تو اس صورت میں مسمٰی محمد فرید کا اپنی اولاد اور بہوؤں کے ساتھ مذکورہ رویہ انتہائی نامناسب اور غلط ہے ، محض اپنی خواہشات کی بناء پر بیٹوں کی جائداد وغیرہ کا ضیاع قطعاً جائز نہیں، اس سے احتراز کرنا چاہیئے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سوال میں بیٹوں کا اپنے والد کے ساتھ مذکور رویہ اگرچہ اطاعت و فرمابنرداری اور حسنِ سلوک والا ہے مگر اسے غلط کاری اور ناجائز امور میں جری ہونے سے روکنے کی بناء پر اگر صرف ضروری نفقہ کی حد تک ہی اسے دیا کریں مزید دینے یا مکان و دوکان وغیرہ اس کے نام کرنے سے احتراز کریں تو اس میں وہ گنہگار بھی نہیں ہونگے ، نیز شخصِ مذکور مسمٰی محمد فرید پر یہ بھی لازم ہے کہ دوسری شادی کا سوچنے کی بجائے پہلی بیوی کے حقوق بجا لانے کی فکر کرے ورنہ مؤاخذۂ آخرت سے چھٹکارا نہ ہوسکے گا۔
وقال تعالی: وتعاونوا علی البرو التقویٰ ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان واتقوا اللہ ان اللہ شدید العقاب o (سورۃ سورۃ المائدۃ)-
وفی الھدایۃ: قال النفقۃ واجبۃ للزوجۃ علی زوجھا مسلمۃ کانت اوکافرۃً (الی قولہ) فعلیہ نفتھا وسکناھا۔ (ص ۴۳۷)-