السلام علیکم!
دعا ہے کہ آپ خیریت سے ہوں ،میں نے ’’ بی سی ایس ہونس‘‘ کیا ہے اور آج کل ’’مو بلنگ‘‘میں ہوں، تقریباً تین سال سے جاب کر رہا ہوں ، میں دین کی بھر پور خدمت کرنا چاہتا ہوں اس نوکری میں رہ کر میں یہ کام نہیں کر پاتا ہو،ں میرا ارادہ یہ ہے کہ میں گاؤں شفٹ ہو جاؤں ، اپنے اباجی اور امی کے ساتھ گاؤں کے کاموں میں بھی ان کے ہاتھ بٹے گا ان کی خدمت کا بھی بھرپور موقع ملے گا اور دین کے لئے تو وقت ہی وقت ہوگا ۔ کسب حلال کا ذریعہ جو میرا ارادہ ہے وہ یہ ہوگا کہ میں انشاء اللہ لوکل سکول میں بحیثیت استاد کام کروں گا، میری بیوی لوکل (لیڈیز) سکول میں پڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں، کرنٹ جاب میرے راستہ میں رکاوٹ بھی بنتی ہے اور اس کے علاوہ میرے والدین چاہتے ہیں کہ میں یہی مو بلنگ ہی میں رہوں ۔ لیکن اگر انشاء اللہ میں استاد لگ جاتا ہوں، تو انشاء الله میرے پاس وقت ہی وقت ہوگا ۔ آپ خود سوچیں کہ استاد کی جاب اچھی جاب ہوتی ہے، جس میں وقت مل جاتا ہے ،اس جاب (مو بلنگ) میں میرے پاس وقت نہیں ہوتا ذرا بھی , صبح 7:50 پر گھر سے نکلتا ہوں 9:15 پر آفس، پھر واپس 6:15 نکلتے ہیں اور 8:30 کے بعد گھر پہنچتا ہوں، میرا آفس اسلام آباد میں ہے زیادہ سے زیادہ 1.5 گھنٹہ لگتا ہے ۔ چند دوست جو تبلیغ کے کام میں جارہے ہیں انہوں نے اس بات کو پسند کیا ہے کہ میں گاؤں شفٹ ہو جاؤں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دوستوں سے ضرور مشورہ کریں ، استخارہ بھی کریں، رزق کا وعدہ اللہ کا ہے ۔ اس لئے اس کی پریشانی نہیں ہے۔ یقین کریں کہ یہ ای میل لکھتے ہوئے آنسو آ رہے ہیں آپ میری راہ نمائی فرمائیں اور دوستوں سے بھی بات کریں۔ مزید یہ کہ یہ میرا جذباتی فیصلہ نہیں ہے، آپ کے جواب ا منتظر ہوں۔ والسلام علیکم!
اگر آپ موجودہ ملازمت (موبلنگ کمپنی) چھوڑ کر گاؤں جائیں اور وہاں اس کا متبادل حلال روزگار بآسانی مل سکتا ہو اور اسلام آباد کے بنسبت گاؤں میں زیادہ دینی کام کرنے کے مواقع موجود ہوں اور آپ خود استخارہ کر کے گاؤں جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ اس میں بہتری ہوگی اور اگر وہاں جانے کے بعد نوکری کی تلاش کی بناء پر والدین ناراض ہوتے ہوں تو پہلے سے نوکری تلاش کریں اور پھر وہاں جائیں۔ اور اگر اسلام آباد رہ کر اپنے فارغ اوقات اور چھٹی کے اوقات کو دینی امور پر صرف کریں اور زیادہ اوقات کے لئے کمپنی سے چھٹی لے لیا کریں تو شرعاً اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔