السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس بندے کے بارے میں جو والدین اور بچوں کے درمیان اپنے فائدے کیلئے اختلافات پیدا کرے جبکہ اختلاف پیدا کرنے والا اپنا بھائی ہو،اگر میں اپنے بچوں کا نکاح اپنے مرضی سے کراؤں اور میرے والدین اس بات پر مجھ سے ناراض ہوں تو کیا میں گناہگارہوں گا؟ میری والدہ جس کے ساتھ میری بیٹی کی شادی کرنا چاہتی ہے وہ مجھے صرف اسلئے پسند نہیں کہ لڑکے کا اُٹھنا بیٹھنا صحیح لوگوں کے ساتھ نہیں ؟
سائل کے والدین جس لڑکے کے ساتھ سائل کی بیٹی کارشتہ کرانے پر بضد ہیں، اگر وہ واقعۃً بگڑا ہوا ہو اور اس کا اُٹھنا بیٹھنا صحیح لوگوں کے ساتھ نہ ہو تو سائل کو چاہیئے کہ والدین کو حکمت کے ساتھ کسی مناسب طریقہ سے راضی کرنے کی پوری کوشش کرے، تاہم ہر ممکن کوشش کے باوجود سائل کے والدین اس لڑکے کے ساتھ رشتہ کرانے پر بضد ہوں تو ایسی صورت میں والدین کی بات نہ ماننے کی وجہ سے سائل گناہ گار نہ ہو گا ، البتہ جو بھائی بے جا اختلافات پیدا کر وا رہا ہے تو اس کا یہ عمل شرعا ً جائز نہیں بلکہ گناہ کبیرہ ہے جس سے بہر صورت احتر از لازم ہے۔
وفي صحيح البخاري: عن سعيد بن أبي بردة، عن أبيه، عن جده، أن النبي صلى الله عليه وسلم، بعث معاذا وأبا موسى إلى اليمن قال: «يسرا ولا تعسرا، وبشرا ولا تنفرا، وتطاوعا ولا تختلفا»۔الحدیث (4/65)
وفي مصنف ابن أبي شيبة: عن عمر قال: «لا نكاح إلا بولي»۔الحدیث (3/454)
وفي مصنف عبد الرزاق: عن جابر، عن الشعبي قال: «لا يجبر على النكاح إلا الأب»۔الحدیث (6/164)
وفي رد المحتار: فلا ولاية للأبعد مع الأقرب إلا إذا غاب غيبة منقطعة۔اھ (3/81)
وفيه ايضا: والظاهر أن وصي الأب مقدم على الجد كما صرحوا به في بابه۔اھ (3/70)