میں 10 سال سے ایک لڑکی کے ساتھ تعلقات میں تھا، وہ پاکستان سے ہے اور میں ہندوستان سے ہوں۔ اب جب کہ میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی مسائل کی وجہ سے دونوں خاندانوں کے لیے ویزا دستیاب نہیں ہے ۔ اب ایک ہی آپشن ہے کہ شادی کر کے دبئی میں سیٹل ہو جاؤ۔ میں اس وقت انڈیا میں جاب کر رہا ہوں۔ میں نے اپنے گھر والوں کو دبئی کے بارے میں بتایا ، میرے والد کو حال ہی میں دل کا دورہ پڑا ہے ۔ میری ماں یہ سن کر کئی بار بے ہوش ہو گئی اور وہ نہیں چاہتی کہ میں اسے چھوڑوں۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں چلا گیا تو ان کے ساتھ کچھ ہو جائے گا۔ گھر میں میرے چھوٹے بھائی اور ایک بہن ہیں، دونوں غیر شادی شدہ ہیں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا مجھے گھر چھوڑ کر آباد ہو جانا چاہیے ؟چاہے میرے والدین اس کے خلاف ہوں اور اگر میں اس لڑکی کو چھوڑ دو، کیا یہ مجھ پر گناہ ہوگا؟ اور اگر وہ اپنے آپ کو کچھ کرتی ہے۔
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائل کا عرصہ دس سال سے ایک غیر لڑکی کے ساتھ تعلقات قائم رکھنا، بے تکلفانہ بات چیت اور رابطے رکھنا شرعاً جائز نہیں تھا، جس پر سائل کو توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے ایسے ناجائز تعلقات و روابط سے اجتناب لازم ہے، جبکہ مذکور رشتے اور اس کی وجہ سے دبئی منتقل ہونے پر اگر سائل کے والدین رضامند نہ ہوں، جس کی وجہ سے انہیں دل کے دورے پڑنے اور بے ہوش ہو جانے جیسی صور ت حال کا سامنا ہو، تو ایسی صورت میں سائل کے لیے شادی کر کے دبئی منتقل ہونا بالکل مناسب نہیں، بلکہ اُسے چاہیے کہ حکمت و بصیرت کے ساتھ خاندان کے بڑوں کے مشورے سے اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کرے۔
و في المستدرك على الصحيحين للحاكم: 7249 - حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، ثنا هارون بن سليمان، ثنا عبد الرحمن بن مهدي، وأخبرنا أحمد بن جعفر، ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن، ثنا شعبة، عن يعلى بن عطاء، عن عبد الله بن عبد الله بن عمرو، رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «رضا الرب في رضا الوالد وسخط الرب في سخط الوالد» هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه " [التعليق - من تلخيص الذهبي] على شرط مسلم اھ (4/ 168) واللہ أعلم بالصواب