میری شادی تقریباً 14 سال پہلے ہوئی تو میرے والد نے میری بیوی کے ساتھ جھگڑا شروع کر دیا کہ یہ میرے پاس آ کر نہیں بیٹھتی اور نہ مجھ سے باتیں کرتی ہے، جب آئے روز یہ جھگڑا بڑھنے لگا تو ایک دن میری بڑی بہن جو دو بچوں کی ماں ہے ، اس نے مجھے بلایا اور کہا کہ وہ تمہاری بیوی سے غلط تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے ، اس لئے تمہاری بیوی سے لڑتا ہے اور وجہ یہ بتائی کہ یہ شخص میرے ساتھ میری شادی سے پہلے سے زنا کرتا چلا آرہا ہے، اور یہ میرے ساتھ نہ جانے کتنی مرتبہ منہ کالا کر چکا ہے، میری بہن نے مزید بتایا کہ یہ کہا کرتا تھا کہ آدھے بچے مجھ سے ہوں گے اور آدھے بچے تمہارے خاوند سے ہوں گے، میری بہن نے یہ بھی بتایا کہ یہ خاندان میں دو تین اور عورتوں سے بھی زنا کر چکا ہے ، حتیٰ کہ جو بچیاں اس کی نواسیوں کی عمر کی ہیں ، ان کو بھی بری نظر سے دیکھتا ہے، یہ سب کچھ سن کر اور بہت سے معاملات اپنی آنکھوں سے دیکھ کر میرے والد کا مقام میری آنکھوں سے گر گیااور دل اتنے مقدس رشتے سے اچاٹ ہو گیا، کئی مرتبہ اپنے والد کے ساتھ میری گرما گرمی بھی ہوئی اور میں نے ان کو بتا دیا کہ مجھ کو تمہارے سب کرتوت پتا ہیں، اب پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ ان کی باقی سب ضروریات میں پوری کر رہا ہوں ، لیکن ان سے بات چیت تقریباً بند ہے ،کیونکہ ان سے بات کرنے کو دل نہیں کرتا، میرا یہ فعل نافرمانی کے زمرے میں تو نہیں آئے گا؟برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں، الحمدللہ پنجگانہ نماز بھی پڑھتا ہوں اور توبہ استغفار بھی کرتا ہوں۔
صورت مسئولہ میں سائل کا اپنے والد سے متعلق ذکر کردہ تفصیلات اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہوں اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا گیا ہو تو ان کا یہ طرز عمل شرعاً نا جائز حرام اور گناہ کبیرہ ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاق سے بھی گری ہوئی حرکت ہے ، لہذا اسے اپنے اس غیر شرعی اور غیر اخلاقی طرز عمل پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے اس سے مکمل اجتناب لازم ہے ، جبکہ سائل کو بھی چاہیئے کہ ان کے ساتھ قطع تعلق کرنے کے بجائے ان کی اصلاح کی کوشش کرے ، تا کہ وہ جلد از جلد ان غیر شرعی امور سے توبہ تائب ہو جائے ، تاہم اگر سائل کے والد حکمت کے ساتھ سمجھانے اور روک ٹوک کے باوجود اپنی ان بیہودہ حرکات سے باز نہ آتا ہو تو اس کے باوجود بھی سائل کے لئے اس کی بے عزتی کرنا اس کے واجب حقوق میں کوتا ہی کرنا یا اس سے بات چیت مکمل طور پر بند کرکے قطع تعلق کرنا جائز نہیں ، البتہ اس کے باقی حقوق کی ساتھ ساتھ بقدر ضرورت بات چیت جاری رکھے تو اس تعلق کو محدود کرنا نافرمانی شمار نہ ہوگی ، نیز اس کے ساتھ ساتھ بیوی کو ممکنہ حدتک اس سے دور رکھے ، ورنہ اس کی کسی غلط حرکت کی وجہ سے سائل کی اور اس کی بیوی کا رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو سکتا ہے ، اس لئے اگر بیوی کو فی الوقت الگ رہائش دینے کی ترتیب ممکن نہ ہو ،تو موجودہ گھر میں ایسی ترتیب بنانا ضروری ہے کہ جہاں سائل کا والد اپنی بہو ( سائل کی بیوی ) کو پریشان نہ کر سکے ۔
قال اللہ تعالی: وَاِنْ جَاهَدَاكَ عَلٰٓى اَنْ تُشْرِكَ بِىْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِى الـدُّنْيَا مَعْرُوْفًا ۖ وَاتَّبِــعْ سَبِيْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَـىَّ ۚ ثُـمَّ اِلَـىَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ الآیۃ (لقمان ۔ آیت : 15 )
و فی عمدۃ القاری: و قال الملھب : غرض البخاری من ھذا الباب ان یبین صفۃ الھجران الجائز و ان ذلک متنوع علی قدر الاجرام، فمن کان جرمہ کثیرا فینبغی ھجرانہ و اجتنابہ و ترک مکالمتہ، کما جاء فی کعب بن مالک و صاحبیہ الخ (باب:مایجوز من الھجران لمن عصی۔ج: 22 ۔ص: 225 )