گناہ و ناجائز

دعوت نامہ پر خواتین معلمات کے نام لکھنا

فتوی نمبر :
70376
| تاریخ :
2024-01-17
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

دعوت نامہ پر خواتین معلمات کے نام لکھنا

بسم الله الرحمن الرحیم میرا تعلق رنگون برما سے ہے ، مجھے آپ حضرات سے ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے، وہ یہ کہ ہمارے ملک برما کے شہر رنگون میں ایک مدرسة البنات واقع ہے ، جہاں عنقریب سالانہ جلسہ منعقد ہونے جارہا ہے، جس میں بخاری شریف کا آخری درس دیا جائے گا ، تو اس ادارہ نے تقریب کے لئے ایک دعوت نامہ جاری کیا ہے، جس میں عالمات کے نام مع والد کے بر میز رسم الخط میں لکھے ہیں ، تو اس کے بارے میں شرعی حکم بیان کیجئے ،کہ کیا مذکورہ عمل درست ہے ؟ کیا نا محرم خواتین کا نام پردہ میں داخل نہیں ہے ؟ براہ کرم رہنمائی فرمادیجئے، جزاکم اللہ محمد حمزہ رنگون برما۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ عورت کا نام اگرچہ ستر میں داخل نہیں ہے ، تاہم بلاضرورت عورتوں کا نام مع و الدیت کے اس طرح دعوت نامہ وغیرہ پر چھپوانا اور اسکو شائع کرنا پسندیدہ نہیں ، لہذا مدرسے والوں کو اسطرح دعوت نامہ وغیرہ پر عورتوں کا نام چھاپ کر شائع کرنے سے اجتناب کرنا چاہیئے، تاہم اگر اس طرح شائع کرنے کی نوبت آئے تو صرف بنت فلا ں ہی لکھ دیا جائے ۔

مأخَذُ الفَتوی


واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظفراللہ نعمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70376کی تصدیق کریں
0     1157
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات