السلام علیکم!مفتی صاحب میں ایک سرکاری گھر میں رہائش پذیر ہوں،کمرے اس طرح بنائے گئے ہیں کہ بیڈ اگر قبلہ کی طرف ایک سائیڈ پر لگائیں ، توکمرے کے دروازے میں رکاوٹ آتی ہے اور اگر قبلہ کی طرف لگائیں ، توقبلے کی طرف پاؤں کرکے سونا پڑتا ہے ،برائے مہربانی اسکا حل بتائیں کہ کیا کیا جائے ۔جزاک اللہ۔
واضح ہو کہ بغیر کسی عذر کے قبلہ کی طرف پاؤں کرکے سونا شرعاًمکروہ اور خلاف ادب عمل ہے،لہذا سائل کیلئے اگر کمرے میں دروازے کے مخالف سمت بیڈ اس انداز سے لگانا ممکن ہوکہ سوتے وقت پاؤں قبلہ کی طرف نہ آئیں توسائل کواسی کا اہتمام کرنا چاہیئے ، ورنہ سرہانہ قبلہ کی جانب کرلے توبھی درست ہوگا۔
کمافی الدرالمختار: كما كره (مد رجليه في نوم أو غيره إليها) أي عمدا لأنه إساءة أدب اھ(655/1)۔
وفی ردالمحتار: (قوله أي عمدا) أي من غير عذر أما بالعذر أو السهو فلا ط. اھ(655/1)۔واللہ اعلم