گناہ و ناجائز

مجبورا بیڈ کو قبلہ رخ رکھنےکا حکم

فتوی نمبر :
70302
| تاریخ :
2023-01-13
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مجبورا بیڈ کو قبلہ رخ رکھنےکا حکم

السلام علیکم!مفتی صاحب میں ایک سرکاری گھر میں رہائش پذیر ہوں،کمرے اس طرح بنائے گئے ہیں کہ بیڈ اگر قبلہ کی طرف ایک سائیڈ پر لگائیں ، توکمرے کے دروازے میں رکاوٹ آتی ہے اور اگر قبلہ کی طرف لگائیں ، توقبلے کی طرف پاؤں کرکے سونا پڑتا ہے ،برائے مہربانی اسکا حل بتائیں کہ کیا کیا جائے ۔جزاک اللہ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ بغیر کسی عذر کے قبلہ کی طرف پاؤں کرکے سونا شرعاًمکروہ اور خلاف ادب عمل ہے،لہذا سائل کیلئے اگر کمرے میں دروازے کے مخالف سمت بیڈ اس انداز سے لگانا ممکن ہوکہ سوتے وقت پاؤں قبلہ کی طرف نہ آئیں توسائل کواسی کا اہتمام کرنا چاہیئے ، ورنہ سرہانہ قبلہ کی جانب کرلے توبھی درست ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدرالمختار: كما كره (مد رجليه في نوم أو غيره إليها) أي عمدا لأنه إساءة أدب اھ(655/1)۔
وفی ردالمحتار: (قوله أي عمدا) أي من غير عذر أما بالعذر أو السهو فلا ط. اھ(655/1)۔واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
احمداللہ مولاداد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70302کی تصدیق کریں
0     1220
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات