مفتی صاحب! اگر میاں بیوی کی دبر ( پیچھے کے حصہ) کے مقام کے اندر نہیں ، بلکہ باہر اپنا نفس رگڑ لیتا ہے ، تو کیا حکم ہوگا نکاح پر؟
شوہر کے لئے بوقتِ ضرورت اپنی بیوی کے پچھلے حصہ میں دخول کئے بغیر باہر اپنے عضوِ خاص کو رگڑ کر استمتاع کی اجازت ہے ، بشرطیکہ دخول کا اندیشہ نہ ہو ، اور اس سے میاں و بیوی کے نکاح پر کوئی اثر بھی نہ پڑے گا ۔
کما فی احکام القرآن للجصاص : ( نساؤکم حرث لکم فاتو حرثکم انی شئتم ) یدل علی ان اباحۃ الوطء مقصورۃ علی الجماع فی الفرج لانہ موضع الحرث ، ( الی قولہ ) رواہ خزیمۃ بن ثابت و ابو ھریرۃ و علی بن طلق کلھم عن النبی ﷺ ان قال : لا تاتو النساء فی ادبارھن ( الی قولہ ) عن النبی ﷺ قال ھی اللوطیۃ الصغرٰی یعنی اتیان النساء فی ادبارھن الخ ( سورۃ البقرۃ ج 1 صـــــ ـ352 ط سہیل اکیڈمی لاھور ) ۔
و فی الرد المحتار تحت ( قولہ: ومباشرتھا لہ ) یجوز لہ ان یلمس بجمیع بدنہ حتی بذکرہ جمیع بدنھا الخ ( باب الحیض ج 1 ص 293 ط: سعید ) ۔ واللہ اعلم