گناہ و ناجائز

غیر محرم سے ملا ہوا تحفہ استعمال کرنےکا حکم

فتوی نمبر :
70259
| تاریخ :
2024-01-10
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

غیر محرم سے ملا ہوا تحفہ استعمال کرنےکا حکم

میں نے ایک غیر محرم فیمیل اسٹوڈنٹ کو تحفہ دیا تھا ، اس کے بدلے اس نے بھی تقریباً اتنی ہی مالیت کا تحفہ مجھے بھی دیا ہے ، میں اسے سسٹر بولتا ہوں اور وہ مجھے بھائی ، اس طرح کے تحائف کے بارے میں شرعاً کیا حکم ہے ؟ کیا وصول کیا گیا تحفہ استعمال کرنا جائز ہے ؟ اگر ناجائز ہے تو کیا وہ کسی غریب مستحق بندے کو دے سکتے ہیں یا استعمال کے لئے اپنے بھائی کو دے سکتے ہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نا محرم مرد و عورت کا آپس میں بلا ضرورت بات چیت ، ہنسی مذاق، ملنا جلنا ، تحفہ وغیرہ لینا دینا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ گناہِ کبیرہ ہے ، جس پر قرآن و حدیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا سائل اور مذکور اسٹوڈنٹ طالبہ کے لئے آپس میں بلا ضرورت بات چیت ، ہنسی مذاق اور تحفے تحائف کے لین دین سے احتراز لازم ہے ، البتہ جو تحفہ وصول کرچکا ہو تو اس کو اپنے استعمال میں لانا جائز ہے ، تاہم آئندہ کے لئے اس طرح کی بے تکلفی سے مکمل اجتناب لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار:( و تمنع ) المرأۃ الشابۃ ( من کشف الوجہ بین رجال ) لا لانہ عورۃ بل ( لخوف الفتنۃ ) کمسہ و ان امن الشھوۃ ، و لذا ثبت بہ حرمۃ المصاھرۃ کما یاتی فی الحظر (و لا یجوز النظر الیہ بشھوۃ کوجہ امرد ) فانہ یحرم النظر الی وجھھا و وجہ الامرد اذا شک فی الشھوۃ الخ ( ج1 ص 406 کتاب الصلوۃ باب شروط الصلوۃ ط: سعید )۔
و فی رد المحتار تحت ( قولہ علی الراجح ) عبارۃ البحر عن الحلیۃ انہ الاشبہ،و فی النھر و ھو الذی ینبغی اعتمادہ و مقابلہ ما فی النوازل: نغمۃ المرأۃ عورۃ و تعلّمھا القرآن من المرأۃ احب قال علیہ الصلوۃ و السلام ( التسبیح للرجال و التصفیق للنساء ) فلا یحسن ان یسمعھا الرجل اھ ( ج1 ص406 مطلب فی ستر العورۃ ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ:و اما رکنھا فقول الواھب وھبت لانہ تملیک و انما یتم بالمالک وحدہ و القبول شرط ثبوت الملک للموھوب لہ حتی لو حلف ان لا یھب فوھب و لم یقبل الآخر حنث کذا فی محیط السرخسی الخ( ج4 ص374 کتاب الھبۃ ط:ماجدیۃ )۔
و فیھا ایضاً: وفیما إذا کان الناظر الی المرأۃ الاجنبیۃ ھو الرجل قال فلیجتنب بجھدہ و ھو دلیل الحرمۃ و ھو الصحیح فی الفصلین جمیعاً و لاتمس شیئاً منہ اذا کان احدھما شابا فی حد الشھوۃ و إن أمنا علی أنفسھما الشھوۃ (الی قولہ) انظر الی وجہ الاجنبیۃ اذا لم یکن عن شھوۃ لیس بحرام لکنہ مکروہ کذا فی السراجیۃ و روی الحسن عن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ یجوز النظر الی قدمھا ایضا و فی روایۃ اخری عنہ قال لا یجوز النظر الی قدمھا و فی جامع البرامکۃ عن ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی انہ یجوز النطر الی ذراعیھا ایضا عند الغسل و الطبخ قیل و کذلک یباح النظر الی ثنایاھا و ذلک کلہ اذا لم یکن النظر عن شھوۃ کذا فی المحیط و کذلک یباح النظر اذا شک فی الاشتھاء کذا فی الکافی قیل و کذلک یباح النظر الی ساقھا اذا لم یکن النظر عن شھوۃ فان کان یعلم انہ لو نظر یشتھی او کان اکبر رأیہ ذلک فلیجتنب بجھدہ کذا فی الذخیرۃ و الاصح ان کل عضو لا یجوز النظر الیہ قبل الانفصال لایجوز بعدہ کشعر رأسھا و قلامۃ رجلھا و شعر عانتہ کذا فی الزاھدی و لا یحل لہ أن یمس وجھھا و لا کفھا و ان کان یأمن الشھوۃ و ھذا اذا کانت شابۃ تشتھی فان کانت لاتشتھی لا بأس بمصافحتھا و مس یدھا کذا فی الذخیرۃ الخ (ج5 ص327/329 کتاب الکراھیۃ الباب الثامن ط:ماجدیۃ )۔واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70259کی تصدیق کریں
0     2312
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات