السلام علیکم ! میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری شادی کو گیارہ سال ہو گئے ہیں ، ہماری کوئی اولاد نہیں ہے ،میرے شوہر مجھ پر بہت شک کرتے ہیں ، واہیات سوالات کرتے ہیں گالیاں بکتے ہیں کسی کے سامنے میری عزت نہیں کرتے ،میرے اوپر کافی مرتبہ ہاتھ اٹھاچکے ہیں، میرے والد کا دیا زیور بھی بغیر اجازت بیچ دیا ،دو طلاقیں وہ مجھے ناجائز بات پر دے چکے ہیں ،مگر اب میری برداشت ختم ہو گئی ہے ،میں اپنے شوہر سے حق مہر معاف کر کے خلع لینا چاہتی ہوں، کسی بھی قیمت پر رہنا نہیں چاہتی برائے مہربانی میری اصلا ح کریں ۔جزاک اللہ !
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائلہ کا شوہر اس کی ہتکِ عزت کرتے ہوئے ، اس پر بلا وجہ شک کرتا ہو ، اسے گالیاں دیتا ہو ، تو اس کا سائلہ کے ساتھ مذکور رویہ اپنانا غیر اخلاقی ہونے کے ساتھ شرعاً ناجائز ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہا ہے ، جس پر اسے بصدقِ دل توبہ و استغفار کرتے ہوئے ، مذکور طرزِ عمل سےاجتناب لازم ہے ، تاہم سائلہ کی جانب سے شوہر کی مکمل حقوق کی ادائیگی ، حکمت سے از خود سمجھانے ، اور خاندان کے بڑوں کے ذریعہ معاملات درست کرانے کی کوشش کے باجود شوہر اپنے مذکور رویہ سے باز نہ آ رہا ہو ، اور سائلہ کے لئے ہر ممکن کوشش کے بعد اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ حدود کی پاسداری کرتے ہوئے میاں کے ساتھ نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو ، تو سائلہ اپنے حق مہر کی معافی یا کچھ رقم کے عوض شوہر سے خلع لے سکتی ہے ، اور اس کی وجہ سے سائلہ گناہ گار نہ ہو گی ، البتہ شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت کے ذریعہ یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرنے سے نکاح ختم نہیں ہوتا ، بلکہ بدستور برقرار رہتا ہے ، اس لئے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرنے سے اجتناب لازم ہے ۔
کما في البدائع الصنائع : وأما ركنه فهو الأيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول اھ ( باب الخلع ،ج 3 ، ص 153 ، ط: سعید ) -
وفى الھندية : واذا تشاق الزوجان وخافا ان لا يقيما حدود الله فلا بأس بان تفتدى نفسها منه بمال يخلعها به فاذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بأئنۃ ولزمها المال كذا في الهدايه ( باب في الخلع ، ج 1 ، ص 488 ، ط : ماجدیہ ) ۔ والله اعلم