گناہ و ناجائز

اچھی ملازمت کے حصول کےلئے داڑھی کٹوانے کا حکم

فتوی نمبر :
70136
| تاریخ :
2024-01-04
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اچھی ملازمت کے حصول کےلئے داڑھی کٹوانے کا حکم

میں اٹامک میں سرکاری نوکری کرتا ہوں ، مجھے آئل اور گیس میں بہت اچھی تنخواہ پر نوکری مل رہی ہے ، کیوں کہ سرکاری نوکریوں کا کوئی حال نہیں رہا ، ملکی صورت حال اچھی نہیں ، آئل اور گیس میں نوکری کرنے کے لئے داڑھی کٹوانی پڑے گی ، میری سنت کے مطابق داڑھی ہے ، آئل اور گیس میں H2S گیس سے انسانی زندگی کے بچاؤ کے لئے آکسیجن سلینڈر لگانا پڑتا ہے ، اس لئے داڑھی کی اجازت نہیں دی جاتی ، کیوں کہ داڑھی والے چہرے پر آکسیجن ماسک نہیں لگتا ، میرے لئے کیا حکم ہے کیا مجھے داڑھی شیو کروا کر آئل اور گیس میں جانا چاہیئے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ ایک مشت داڑھی رکھنا واجب اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی مشترکہ سنت ہے،اور ایک مشت سے کم داڑھی کتروانا یا بالکل مونڈنا شرعاً ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے لہذاسائل کے لئے فقط اچھی ملازمت کے حصول کی خاطرداڑھی کاٹناشرعاً جائز نہیں بلکہ ناجائز وحرام اور گناہ کبیرہ ہے، چنانچہ کمپنی کی پالیسی کی وجہ سے سائل کے لئے اس ملازمت و نوکری کے ساتھ داڑھی رکھنا ممکن نہ ہو، تو سائل کو کوئی دوسری متبادل نوکری تلاش کرنی چاہیئے، امید ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ شرعی حکم کی پابندی کرنے پر اخروی اجروثواب کے ساتھ ساتھ دنیوی اعتبار سے بھی بہتر وسائل مہیا فرمادیں گے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح مسلم:عن ابن عمر،عن النبیﷺ انہ امر احفاء الشوارب و اعفاء اللحیۃ(باب خصال الفطرۃ،رقم الحدیث53،ص166،ط:مؤسسۃ الرسالۃ)۔
وفی الدر المختار: ولذا يحرم على الرجل قطع لحيته الخ(کتاب الحظر و الاباحۃ،ج6،ص407،ط:سعید)۔
وفیہ ایضاً:وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد الخ(باب ما یفسد الصلوۃ،ج2،ص418،ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70136کی تصدیق کریں
1     742
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات