کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ میں کہ ہم دونوں میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑے کے دوران میں نے بیوی کو ”طلاق“ بولنا شروع کیا اور دو مرتبہ طلاق کے الفاظ بول دیئے کہ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ پھر میری بیوی نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا اور تیسری مرتبہ نہیں بول سکا، اس کے بعد ہم نے رجوع کر لیا اور بدستور میاں بیوی کی طرح ساتھ رہے ہیں، تین چار مہینے کے بعد ساس کے ساتھ لڑائی کی وجہ سے میری بیوی اپنے والدین کےہاں چلی گئی، اور ،میرے خلاف عدالت میں خلع کا کیس کیا جس کا مجھے ایک مرتبہ نوٹس ملا، لیکن میں عدالت گیا نہیں ہوں، اور چار مہینے کے بعد عدالت نے یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کر دی (جس کا اُردو ترجمہ سوال کے ساتھ منسلک ہے) ، ابھی ہم لوگ دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورتِ حال میں ہمارے لئےکیا حکم ہے ؟
نوٹ: دونوں میاں کے حلفیہ بیان کے مطابق صرف دو مرتبہ ہی طلاق کے الفاظ منہ سے نکلے تھے۔
سائل نے دو مرتبہ طلاقِ رجعی دے کر اگر دورانِ عدت رجوع کر لیا تھا تو اس کا رجوع درست ہو چکا تھا، جس کے بعد دونوں کا میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا بھی جائز تھا، اور تیسری طلاق کا تلفظ چونکہ منہ پر ہاتھ رکھنے کی وجہ سے نہیں پایا گیا تو تیسری طلاق واقع نہیں ہوئی۔
اس کے بعد واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل یا اسکی طرف سے مقرر کردہ وکیل نے عدالت میں حاضر ہو کر خلع کے کاغذات پر دستخط نہ کیے ہوں، بلکہ عدالت نے شوہر کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ خلع کا فیصلہ دیا ہو تو اس فیصلہ کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، اسکی وجہ سے سائل کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ بدستور برقرار ہے، لہذا بغیر تجدیدِ نکاح کے دونوں میاں بیوی حسبِ سابق ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، تاہم اس صورت میں شوہر کو آئندہ کے لئے فقط ایک طلاق کااختیار ہے ،اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما في الھدایة: واذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية او تطليقتين فله أن يراجعها في عدتھا۔اھ (2/405)
والفتاوىٰ الهندية: ولو قال أنت طالق وهو يريد أن يقول ثلاثا فقبل أن يقول ثلاثا أمسك غيره فمه أو مات تقع واحدة كذا في محيط السرخسي۔اھ (1/359)
وفی رد المحتار: وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول۔اھ (3/441)
وفی المبسوط للسرخسي: والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق۔اھ (6/173)