کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنے بیٹے کو قصداً وعمداً قتل کردیا ہے، اب وہ اس بیٹے کی دیت ادا کرنا چاہتا ہے جو کہ بیالیس لاکھ روپے ہے، اور مقتول کے ورثاء میں اس کی بیوی ،ایک بیٹا،ایک بیٹی والدہ،دادا ،زندہ ہیں ،اس کے علاوہ مرحوم کا ایک بھائی اور بہن بھی موجودہے ،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مذکورہ دیت اورمقتول کا ترکہ ان ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا،اور ہر وارث کے حصے میں کتنی رقم اور کتنا حصہ آئے گا؟ شرعی حکم سے آگاہ کرکے مشکور فرمائیں۔
شخصِ مذکور کا اپنے بیٹے کو نا حق قتل کرنا شرعاً ناجائز اور حرام عمل ہے ،جس کی وجہ سے مذکور شخص بہت سخت گناہ گار ہوا ہےجس پر اسے خلوصِ نیت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ واستغفار اور آئندہ کیلئے اس طرح کے جرائم سے مکمل اجتناب لازم ہے ،جبکہ والد ہونے کی وجہ سے مذکور شخص سے قصاص تو نہیں لیا جائے گا ،مگر قتلِ عمد کی صورت میں اس کے مال میں سے اس کے ذمہ دیت کی ادائیگی لازم ہوگی ،جبکہ دیت کا مال مقتول کا ترکہ شمار ہوکر دیگر ترکہ کی طرح اس کے تمام شرعی ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس کے شرعی ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا ،کہ مرحوم نے بوقت انتقال مذکور دیت سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ،سوناچاندی،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الاداء ہو تو وہ ادا کریں ،اسکے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)حصے کی حد تک اس پر عمل کریں ،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اسکے کل (72) حصے بنائے جائیں جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو(9)حصے،دادا کو (12) حصے،والدہ کو (12) حصے ،بیٹے کو (26) حصے،اور بیٹی کو (13) حصےدیے جائیں -
فی الشامیۃ:واعلم أنه يدخل في التركة الدية الواجبة بالقتل الخطأ أو بالصلح عن العمد أو بانقلاب القصاص مالا بعفو بعض الأولياء (6/759)
وفی المبسوط:«لا يقاد الوالد بولده ولا السيد بعبده» وقضى عمر بن الخطاب - رضي الله عنه - في من قتل ابنه عمدا بالدية في ماله اھ(26/92)