السلام علیکم ! کیا جو لوگ انڈین ڈرامہ ، فلم اور ناچ گانے کی ویڈیوز دیکھتے ہیں جن میں تقریبا ہر طرح کی خرابیاں پائی جاتی ہیں تو انکے لۓ ارطغرل غازی اور عثمان سیریز دیکھنا کیسا ہے ؟جبکہ یہ بات مستحکم ہو کہ(عمر سیریز)میں کوئی غلط بیانی نہیں کی گئی ہے، ہر بات یا واقعہ پر حدیث کوڈ کیا گیا ہے تو کیا انڈین اور پاکستانی ڈراموں اور فحش فلموں میں ملوث افراد کے لۓ عمر سریز دیکھنا کیا ایسا ہی ناجائز ہے جیسا انڈین ناچ گانا وغیرہ ؟کیونکہ عمر سیریز میرے مطابق انڈین ڈراموں اور فحش فلموں سے بہتر ہے کہ اسکے ذریعے اسلامی تاریخ کا پتہ چلتا ہے اور مکمل فحش و بے حیائی کے گناہ سے بچاؤ بھی، تو براہِ کرم سوال کی نوعیت کے مطابق جواب فراہم کردیں کہ انڈین ڈراموں اور فحش فلموں اور گانا وغیرہ کے عادی افراد کے لۓ عمر سیریز یا ارطغرل غازی یا دیگر اسلامی موضوعات پر بنی سچی فلمیں جس میں جھوٹ نہ ہو تو انکا دیکھنا کیسا ہے ؟
نوٹ: ڈرامہ عمر سیریز میں حضرت عمر ؓ کی زندگی کا احاطہ کیا گیا ہے اور اس میں حضرت عمرؓ ، خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی خود ساختہ صورتیں دکھائی گئی ہیں ۔
سوال میں مذکور عمر سیریز مضمون اور واقعات کے اعتبار سے اگر چہ انڈین فلموں کی سچی جھوٹی عشقیہ کہانیوں کے بجائے حقیقی اور تاریخی واقعات پر مشتمل ہو لیکن اس طرح فلمو ں کی عکس بندی کرتے وقت قرآن و سنت کے مضامین اور ان کو عملی زندگی میں لانے والے مقدس اور بزرگ حضرات کی نقالی پیشہ ور اداکار کردار نبھا رہے ہوتے ہیں ، اسی طرح کوئی بھی فلم کسی خاتون کے کردار کےبغیر مکمل نہیں ہوتی اور خواتین کے لئے بے حجاب مردوں کے سامنے آنا یا ان کی تصاویر کا بلا ضرورت نامحرموں کو دکھلانا قرآن و حدیث کی رو سے بالکل ناجائز ہے ، اور ناجائز کام مضامینِ قرآنیہ بیان کرنےکےلئے ذریعہ بنانا بھی نہ صرف حرام نہیں بلکہ معاذاللہ آیاتِ قرآنیہ اور ان بزرگ شخصیات کی توہین کے بھی مترادف ہے۔
نیرکسی بھی فلم کا اصل منشا تعلیم و تبلیغ نہیں بلکہ تفریحِ طبع اور کھیل تماشوں سے لذت حاصل کرنا ہوتا ہے لہذا مذکور فلموں کو دیکھنے والے تفریحِ طبع کی غرض سے فلم دیکھیں گے نہ کہ علم، عبرت یا نصیحت حاصل کرنے کےلئے جسکی واضح دلیل یہ ہیکہ اگر یہی مضامین اپنی اصلی صورت میں وعظ و تذکیر کیلئے بیان کیے جاتے ہیں تو یہ لوگ اس میں شریک ہونے کیلئے تیار نہیں ہوتے، اس لیے مذکور بزرگوں کے واقعات دیکھنے دکھانے کا مقصدِ اصلی کھیل تماشہ سے لذت حاصل کرنا اور تفریحِ طبع کو بنا لینا کسی طرح بھی جائز نہیں،
مذکور بالا وجوہ کی بناء پر اور دیگر متعدد مفاسد کے پیش نظر ایسی فلموں کا بنانا ،دیکھنا، دکھانا سب ناجائز ہے مسلمانوں کو اس سے سختی سے پر ہیز کرنا چاہیئے اور حکومت کا بھی فرض ہے کہ نہ صرف ایسی فلمیں دکھانے سے باز رہے بلکہ آئندہ اس قسم کی فلموں کی نمائش وغیرہ کا مکمل طور پر سدِ باب کرے۔
ففی الدر المختار : قال ابن مسعود : صوت اللهو و الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء النبات . قلت : و في البزازية : إستماع صوت الملاهي كضرب قصب و نحوه حرام ؛ لقوله عليه الصلاة و السلام : استماع الملاهي معصية ، و الجلوس عليها فسق ، و التلذذ بها كفر ، أي بالنعمة . ( ٦/ ٣٤٨ - ٣٤٩ )۔
وفي الدر : (و) ينظر ( من الاجنبية ) ولو كافرة مجتبي (الى وجهها وكفيها فقط) للضرورة (الى قوله ) (فان خاف الشهوة ) اوشك -( لامتنع نظره الى وجهها ) فحل النظر مقيد بعدم الشهوة و الا فحرام و هذا في زمانه، واما في زماننا فمنع من الشابة الخ (370/6)۔
وفي الشامية تحت(قوله ودلت المسألة إلخ) لأن محمدا أطلق اسم اللعب والغناء فاللعب وهو اللهو حرام بالنص قال - عليه الصلاة والسلام - «لهو المؤمن باطل إلا في ثلاث: تأديبه فرسه» وفي رواية «ملاعبته بفرسه ورميه عن قوسه وملاعبته مع أهله»(348/6)۔