پندرہویں صدی نہیں آئے گی؟کیا یہ حدیث ہےاور یہ بات صحیح ہے؟قرآن و احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں مفصل اور باحوالہ جواب عنایت فرمائیں۔
واضح ہو کہ پندرہویں صدی نہیں آئے گی ان الفاظ اور معنی پر مشتمل حدیث ہماری نظر سے نہیں گزری اور نہ ہی یہ حدیث کے الفاظ معلوم ہوتے ہیں ، بلکہ یہ زبان زد مقولہ ہے ،اسی طرح قرآن و حدیث میں وقوع قیامت کا کوئی متعین وقت بیان نہیں کیا گیا ہے ، بلکہ بڑی بڑی علامتیں بتائی گئی ہیں ، جن کا ظہور اب تک نہیں ہوا ، اس لئے یہ بات کہنا کہ چودھویں صدی کے ختم پر قیامت آ جائے گی ،جس کی وجہ سے پندرہویں صدی کی ابتداء نہ ہو سکے گی ،سراسر غلط اور قرآن و حدیث کے متصادم ہے ، لہذا اس طرح کی باتیں پھیلانے سے احتراز چاہیئے ۔
کما قال اللہ تعالی ! قل لا یعلم من فی السمٰوٰات و الارض الغیب الا اللہ ، وما یشعرون ایان یبعثون الآیہ ( سورۃ النمل ، آیت 65 ) ۔
وفی تفسیر ابن کثیر : فی قولہ تعالی ( ان اللہ عندہ علم الساعۃ ) ھذہ مفاتیح الغیب التی استاثرہ اللہ تعالی بعلمھا فلا یعلمھا احد الا بعد اعلامہ تعالی بھا فعلم وقت الساعۃ لا یعلمہ نبی مرسل و لا ملک مقرب الخ ( ج 3 ، ص 71 ، ط : دار القرآن الکریم ) ۔
و فی صحیح البخاری : عن ابی ھریرۃ قال : کان النبی ﷺ بارزا یوما للناس ، فاتاہ رجل فقال : ما الایمان ( الی قولہ ) قال : متی الساعۃ ؟ قال " مالمسؤول عنھا باعلم من السائل و ساخبرک عن اشراطھا : اذا ولدت الامۃ ربھا ، و اذا تطاول رعاۃ الابل البھم فی البنیان ، فی خمس لا یعلمھا الا اللہ ، ثم تلا النبی ﷺ " ان اللہ عندہ علم الساعۃ " الآیۃ الخ ( حدیث 50 ، باب سؤال جبریل النبی ﷺ الخ ، ج 1 ، ص 153 ، ط : البشری ) ۔