جس جم میں میوزک اور عورتوں کی ننگی تصویریں ہوں ،اس جم میں جانے کی شرعاً اجازت ہے ؟ مجھے گیس کی بیماری ہے مجھے یہ کنٹرول کرنے کے لئے بہت ورزش کرنا پڑتا ہے ، میری مسجد کے امام صاحب نے بتایا کہ تم جا سکتے ہو ۔
واضح ہو کہ کسی جگہ عورتوں کی فحش تصاویر لگانا اور میوزک چلانا فی نفسہ ناجائز اور حرام ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کو گناہ میں مبتلا کرنے کاسبب بھی بنتا ہے ، جس کی وجہ سے اس کی شناعت اور بھی بڑھ جاتی ہے ، لہذا اولاً تو مذکور جم کے مالک پر لازم ہے کہ وہاں سے اس طرح کی فحش اور غیر شرعی تصاویر ہٹا کر میوزک چلانا بند کر دے ، تاہم اگر وہ اس پر آمادہ نہ ہو تو سائل کے لئے وہاں ورزش کرنے کے بجائے ، ایسے جم کا انتخاب کرنا ضروری ہے ، جو ان محظوراتِ شرعیہ سے پاک ہو ، وگرنہ اسے کسی پارک وغیرہ میں ورزش کا اہتمام کرنا چاہیئے ۔
کما قال اللہ تعالی : قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم و یحفظوا فروجھم الخ ( سورۃ النور ، آیت 30 ) ۔
و فی الفتاوٰی التاتارخانیۃ : و فی فتاوی اھل سمرقند : ( استماع ) صوت الملاھی کالضرب بالقصیب و غیر ذالک حرام من الملاھی ، و قد قال علیہ السلام الملاھی معصیۃ و الجلوس علیھا فسق و التلذذ بھا من الکفر ، و ھذا خرج علی وجہ التشدید لعظم الذنب ، و قالوا : الا ان یسمع بغتۃ فیکون معذوراً ، و الواجب علی کل احد ان یجتھد ما امکنہ حتی لا یسمع اھ ( فصل فی الغناء و اللھو ،ج 18 ، ص 189 ، ط : رشیدیہ ) ۔
و فی الھندیۃ : قال رحمہ اللہ تعالی السماع و القول و الرقص الذی یفعلہ المتصوفۃ فی زماننا حرام لا یجوز القصد الیہ و الجلوس علیہ و ھو و الغناء و المزامیر سواء الخ ( باب فی الغناء و اللھو ، ج 5 ، ص 352 ، ط : ماجدیہ ) ۔