گناہ و ناجائز

میت کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
69700
| تاریخ :
2023-12-11
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

میت کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنے کا حکم

السلام علیکم ! مفتی صاحب سے میرا سوال یہ ہے کہ ایک آدمی کا انتقال بیرون ملک میں ہوگیا ، اب اس کے رشتہ دار اس کی لاش کو وطن لانا چاہتے ہیں ، اب سوال یہ ہے کہ میّت کو ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل کرنا کیسا ہے ؟ اور میّت کی حفاظت کے لئے جو دوا وغیرہ استعمال کی جاتی ہے اس کا کیا حکم ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ میت کو بلا عذر ایک جگہ سے دوسری جگہ (جو مسافت شرعی پر ہو) منتقل کرنا مکروہ و ممنوع ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور میت کو اسی ملک میں دفن کرنا چاہیئے، تاہم اگر اس کو اپنے ملک منتقل کرلیا تو اس کا گناہ منتقل کرنے والوں پر ہوگا، انہیں چاہیئے کہ اپنے اس گناہ پر توبہ و استغفار کریں اور آئندہ اس طرح کے عمل سے اجتناب بھی کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیۃ: ويستحب في القتيل والميت دفنه في المكان الذي مات في مقابر أولئك القوم وإن نقل قبل الدفن إلى قدر ميل أو ميلين فلا بأس به، كذا في الخلاصة.اھ (ج۱، ص۱۶۷، الفصل السادس فی القبر و الدفن والنقل من مکان الی آخر، ط۔ماجدیہ)۔
و فی رد المحتار: (قوله: يندب دفنه في جهة موته) أي في مقابر أهل المكان الذي مات فيه أو قتل، وإن نقل قدر ميل أو ميلين فلا بأس شرح المنية،الخ (ج۲، ص۲۳۹، باب صلوۃ الجنازہ،ط۔سعید)۔
و فی مرقاۃ المفاتیح: قلت: فإذا كان يترتب عليه فائدة من نقله إلى أحد الحرمين أو إلى قرب قبر أحد من الأنبياء، أو الأولياء، أو ليزوره أقاربه من ذلك البلد، وغير ذلك، فلا كراهة إلا ما نص عليه من شهداء أحد، أو من في معناهم، من مطلق الشهداء، والله أعلم.اھ (ج۴،ص۱۸۴،باب دفن المیت، ط۔حقانیہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69700کی تصدیق کریں
0     790
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات