گناہ و ناجائز

کپڑوں پر جانوروں کی تصاویر چھاپنے کا حکم

فتوی نمبر :
69621
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کپڑوں پر جانوروں کی تصاویر چھاپنے کا حکم

ہم ایکسپورٹر ہیں، اگرچہ پاکستان میں کرنسی نوٹ سمیت ہر چیز پرتصویر ہے،لیکن ہمیں یہ بتائیے گا کہ کپڑے پر شیر یا دیگر جانوروں کی تصویریں چھاپنا کیسا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی بھی جاندار کی تصویر کا باقاعدہ پرنٹ آؤٹ لینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے جس سے اجتناب لازم ہے ، جبکہ کرنسی نوٹ یا دیگر قانونی کاغذات وغیرہ میں جو تصاویر لی جاتی ہیں تو بامرِ مجبوری علماء نے اُس کی گنجائش دی ہے، لیکن اُس پر قیاس کرتے ہوئے سائل کیلئے کپڑے وغیرہ پر شیر یا کسی دوسرے جانور کی تصویر چھاپنا جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشكاة المصابيح : و عن عبد الله بن مسعودؓ قال سمعت رسول الله ﷺ يقول أشد الناس عذابا عند الله المصورون۔اھ (2/ 1274)۔
و فی تکملة فتح الملھم : لأن مواضع الضرورة مستثناة من الحرمة کما فی تناول المیتة و ذکر السرخسیؒ ایضاً إن المسلمین یتبایعون بدراھم الأعاجم فیھا التماثیل بالتیجان و لایمنع أحد عن المعاملة بذلک۔اھ (4/164)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسامہ ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69621کی تصدیق کریں
0     997
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات