گناہ و ناجائز

چھٹی کرنے پر ادارہ کا استاد کی تنخواہ سے کٹوتی کرنا

فتوی نمبر :
69605
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

چھٹی کرنے پر ادارہ کا استاد کی تنخواہ سے کٹوتی کرنا

کسی بھی ادارے میں اساتذہ کی تنخواہ سے کٹوتی کی جاتی ہے، کیا یہ جائز ہے؟ جبکہ اس نے وہ چھٹی شدید عذر اور درخواست دینے کے بعد کی ہو ؟ اور وہ کٹوتی کی گئی رقم ادارہ اپنے استعمال میں رکھ لے، کیا یہ بھی ٹھیک ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ کسی بھی ادارے کے ضابطہ کے مطابق جتنی تاخیرمعاف ہو یا چھٹیاں کرنے کی اجازت ہوتو اتنے دنوں کی تنخواہ کاٹنا شرعاً جائز نہیں، البتہ اس کے علاوہ تاخیر اور غیر حاضری کو جمع کرکے جتنے دن بن جائیں، مہینے کے آخر میں صرف اتنے دنوں کی کٹوتی کرنا ادارے کے منتظمین کیلئے جائز اور درست ہے اور اس رقم کو اپنے استعمال میں لانا بھی ادارہ کے لئے جائز ہے، البتہ چھٹی کے علاوہ حاضری والےدن کی تنخواہ کاٹنا جائز نہیں، جس سےبہر صورت احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: و ليس للخاص أن يعمل لغيره و لو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل الخ
و فی الشامیة: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة و يسقط من الأجير بقدر اشتغاله إن كان بعيدا و إن قريبا لم يحط شيء فإن كان بعيدا و اشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة اھ (6/ 70)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حمزہ نفیس خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69605کی تصدیق کریں
0     1106
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات