اگر کوئی شخص کسی دنیاوی مصلحت کی وجہ سے کسی سے بات نہ کرے تو کیا وہ گناہگار ہوگا، جبکہ جس سے بات نہیں کررہا اس نے اس پر ظلم کیا ہو، مارا ہو ،اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟
کسی اجنبی شخص کے شر اور ظلم سے بچنے کیلئے اس کے ساتھ محض بات چیت موقوف کرنا قطع تعلقی کے زمرے میں داخل نہ ہوگا، اسی طرح کسی ذی محرم رشتہ دار سے اُس کے شر سے بچنے کی خاطر غیر ضروری تعلق اور آمد و رفت موقوف رکھنے کی بھی اجازت ہے، تاہم اس میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس کی وجہ سے جانبین کے شرعی حقوق متاثر نہ ہوں۔
کما فی عمدة القاري: باب في بيان ما يجوز من الهجران لمن عصى، وقال المهلب: غرض البخاري من هذا الباب أن يبين صفة الهجران الجائز وأن ذلك متنوع على قدر الإجرام، فمن كان جرمه كثيرا فينبغي هجرانه واجتنابه وترك مكالمته، كما جاء في كعب بن مالك وصاحبيه، وما كان من المغاضبة بين الأهل والإخوان فالهجران الجائز فيها ترك التحية والتسمية وبسط الوجه، كما فعلت عائشة في مغاضبتها مع رسول الله ﷺ. وقال كعب، حين تخلف عن النبيﷺ: ونهى النبيﷺ المسلمين عن كلامنا، وذكر خمسين ليلة۔الحدیث (22/ 143)