میں دبئی کےایک 5 اسٹار ہوٹل میں کام کرتا ہوں ، مجھے ایک وقت کا کھانا کھانے کی اجازت ہے ، مگر ناشتے یا بریک فاسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے ، صرف چائے اور ڈبل روٹی کی اجازت ہے ، ہم لوگ کبھی کبھار اصل کھانے سے کچھ تھوڑاانکے سامنے انکی مرضی سے کھالیتے ہیں ، کبھی کبھی ان سے پارسل بکس لے کر کچھ کھانا ساتھ بھی لے جاتے ہیں ،اور یہ سب انکی رضا اور مرضی سے کرتے ہیں ، انکے ساتھ ہمارا تعلق بہت اچھا ہے ،وہ لوگ کھانا ، ناشتے کے وقت کے بعد ہوٹل کے ضابطہ کے مطابق سارا کھانا ضائع کرتے ہیں ،کیا ہمارا ا نکی مرضی سے اور انکی طرف سے کوئی اعتراض نہ ہو تو کھانا لینا ٹھیک ہے ؟
سائل اگر ہوٹل انتظامیہ کی مرضی و اجازت سے مجوزہ کھانے سے زائد کچھ کھالیتا ہو ، یا گھر لے جاتا ہو ، تو اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ۔
کما فی مسند احمد : عن عمرو بن یثربی قال : خطبنا رسول اللہ صلعم: فقال : الا ولا یحل لامری من مال اخیہ شیئ الا بطیب نفسہ منہ الخ ( رقم: 21582 ۔ ج: 34 ۔ص: 5ظ60 )۔
و فی الھندیۃ : اذا کان الرجل علی مائدۃ فناول غیرہ من طعام المائدۃ ان علم ان صاحبہ لا یرضی بہ لا یحل لہ ذلک وان علم انہ یرضی فلا باس بہ الخ ( الباب ۔ الھدایا و الضیافہ۔ ج: 9 ۔ص: 153 )۔واللہ اعلم