گناہ و ناجائز

کیا ماں کی گالی دینے والے کو قتل کیا جا سکتا ہے؟

فتوی نمبر :
69251
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کیا ماں کی گالی دینے والے کو قتل کیا جا سکتا ہے؟

السلام علیکم ! ہمارے ان رشتہ داروں کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے جنہوں نے ہماری ماں کو گالی دی ، کیا ان کو قتل کرنا یا مارنا جائز ہے ، اگر نہیں تو ایسے حالات میں ہمارے لئے کیا جائز ہے ؟ جہاں انہوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری ماں کی بے عزتی کی ہو ۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی بھی مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کو گالی دینا یا بُرا بھلا کہنا شرعاً ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے ، تاہم صرف گالی دینے کی وجہ سے کسی کو قتل کرنا جائز نہیں ، اور نہ ہی اس کو بذاتِ خود سزا دینے کا کوئی اختیار ہے ، البتہ اگر بذریعہ قاضی اسے تعزیری سزا دینا چاہے تو اسے اس کا اختیار ہے ، لیکن اس سب کے باوجود انہیں معاف کرنا بہر حال بہتر اور باعثِ اجر و ثواب ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکٰوۃ المصابیح : عن ابن مسعود قال قال رسول اللہ ﷺ لیس المؤمن بالطعّان و لا باللعّان و لا الفاحش و لا البذیّ رواہ الترمذی و البیھقی فی شعب الایمان ( ج 2 ص 413 باب حفظ اللسان و الغیبۃ و الشتم الفصل الثانی ط : قدیمی کتب خانہ ) ۔
و فی مرقاۃ المفاتیح تحت قولہ ( و لا الفاحش ) ای فاعل الفحش او قائلہ : و فی النھایۃ : ای من لہ الفحش فی کلامہ و فعالہ قیل : ای الشاتم ، و الظاھر انّ المراد بہ الشتم القبیح الذی یقبح ذکرہ الخ ( ج 8 ص 591 کتاب الآداب ط : الحقانیۃ ) ۔
و فی بدائع الصنائع : ( اما ) سبب وجوبہ فارتکابہ جنایۃ لیس لھا حد مقدر فی الشرع سواء کانت الجنایۃ علی حق اللہ تعالٰی کترک الصلٰاۃ و الصوم و نحو ذٰلک او علی حق العبد بان آذی مسلماً بغیر حق بفعل او بقول یحتمل الصدق و الکذب بان قال لہ یا خبیث یا فاسق الخ ( ج 7 ص 63 فصل و اما التعزیر فالکلام فیہ فی مواضع ط: سعید )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69251کی تصدیق کریں
0     1117
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات