گناہ و ناجائز

کرایہ کی دکان خالی کرواکر خود اس دکان میں کاروبار کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
69142
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کرایہ کی دکان خالی کرواکر خود اس دکان میں کاروبار کرنے کا حکم

السلام علیکم ! میں نے ایک عدد شاپ رینٹ پر دی تھی ایک سال پہلے جو کہ موبائل شاپ بنائی ہے بندے نے ، اب میرا اپنا کوئی ذاتی کاروبار نہیں ہے ، کیا میں اس شاپ کو خالی کروا کر خود موبائل شاپ بنا سکتا ہوں ؟ رہنمائی فرمائے ۔ شکریہ !

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل اور کرایہ دار کے درمیان اگر مخصوص مدت مثلا ایک سال ، دو سال کے لئے کرایہ داری کا معاملہ طے پایا ہو ، تو طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس مدت سے قبل فقط اپنے کاروبار کرنے کی غرض سے سائل کے لئے کرایہ دار سے مذکور دکان خالی کروانا شرعا درست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ، البتہ کرایہ داری کی مدت ختم ہونے پر سائل (مالکِ دکان ) کو اختیار ہے کہ چاہے کرایہ داری کا معاملہ ختم کرتے ہوئے دکان خالی کروا کر اپنا کوئی کاروبار شروع کرے یا نئے سرے سے کرایہ دار کے ساتھ کرایہ کا معاملہ کرلے ، البتہ اگر فریقین باہمی رضامندی سے اس معاہدے کو ختم کرنا چاہیں تو انہیں اس کا اختیار ہے ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد کریم یعقوب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69142کی تصدیق کریں
0     750
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات