گناہ و ناجائز

فائیور کمپنی کے ساتھ مالی معاملات کا حکم

فتوی نمبر :
69111
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

فائیور کمپنی کے ساتھ مالی معاملات کا حکم

السلام علیکم ! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہم بائیکاٹ کر رہے ہیں ، ان تمام کمپنیوں سے جوکہ اسرائیل کی مدد کرتی ہیں، کیا ہمیں چاہیئے کہ ہم فائیور کابھی بائیکاٹ کریں ، کیونکہ ہماری تمام انکم آزادانہ ہے جب ہم فائیور کے ساتھ کام کرتے ہیں ، تو وہ کمیشن چارج کرتی ہے اور یہ چونکہ (Tel Aviv)پر مبنی ہے وہ تمام کمیشن براہ راست اسرائیل کو پہنچتا ہے

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

،واضح ہوکہ جس ملک میں مختلف اوقات میں مسلمانوں پر ظلم ڈھایا جاتا ہو ان کی معیشت کو فائدہ پہنچانا غیرت ایمانی کے خلاف ہے ، اس لئے ایک مسلمان کے لئے انفرادی طورپر جس قدر ممکن ہو اسے حتی المقدر مسلمانوں پر ظلم کرنے والے ملک کو کسی بھی طرح فائدہ پہنچانے سے مکمل اجتناب کرناچاہیے، لہذا اگر فائیور کمپنی کی آمدنی کا کچھ حصہ اسرائیل تک پہنچ رہا ہو تو اس کا بائیکاٹ بھی غیرت ایمانی کا تقاضہ ہے ، اور ہر مسلمان کو اس کا اہتمام کرنا چاہیئے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدرالمختار: (ولم نبع) في الزيلعي يحرم أن نبيع (منهم ما فيه تقويتهم على الحرب) كحديد وعبيد وخيل (ولا نحمله إليهم ولو بعد صلح) ؛ لأنه - عليه الصلاة والسلام - نهى عن ذلك وأمر بالميرة وهي الطعام والقماش فجاز استحسانا
وفی ردالمحتار: (قوله ولم نبع إلخ) أراد به التمليك بوجه كالهبة قهستاني، بل الظاهر أن الإيجار والإعارة كذلك أفاده الحموي؛ لأن العلة منع ما فيه تقوية على قتالنا كما أفاده كلام المصنف (قوله يحرم) أي يكره كراهة تحريم قهستاني (قوله كحديد) وكسلاح مما استعمل للحرب، ولو صغيرا كالإبرة، وكذا ما في حكمه من الحرير والديباج فإن تمليكه مكروه؛ لأنه يصنع منه الراية قهستاني (قوله وعبيد) ؛ لأنهم يتوالدون عندهم فيعودون حربا علينا مسلما كان الرقيق أو كافرا بحر(کتاب الجھاد ج 4 ص134 ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ظفراللہ نعمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69111کی تصدیق کریں
0     781
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات