گناہ و ناجائز

کام حاصل کرنے کیلئے سوشل پلیٹ فارم پر جھوٹ بولنا

فتوی نمبر :
69075
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کام حاصل کرنے کیلئے سوشل پلیٹ فارم پر جھوٹ بولنا

میں ایک ڈیجیٹل ایجنسی میں کام کرتا ہوں جہاں ہم پلیٹ فارم کے ذریعے آن لائن گرافک ڈیزائن کی خدمات فراہم کرتے ہیں، میں وہاں کلائنٹس کو جو کام کے لئے بولتا ہوں ان پیجز میں کچھ معلومات غلط ہیں، مثال کے طور پر میں بولتا ہوں کہ میں دو ماہ سے بیروزگار ہوں اور مجھے بل ادا کرنے اور گھریلو ضروری سامان خریدنے کی ضرورت ہے، لیکن ہم انہیں وہ سروس فراہم کرتے ہیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا تھا، ہم وہ پیجز بس اسلئے استعمال کرتے ہیں کہ کلائنٹس راضی ہوجاے مگر جو کلائنٹس ڈیزائن بنوانے کے لئے راضی ہو جاتا ہے اس کا کام ہم کر کے دیتے ہیں , کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ کیا یہ کام صحیح ہے یا غلط؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

آن لائن گرافک ڈیزائنگ کے دوران اگر سائل خواتین کی تصاویر ، فحاشی اور عریانی پر مشتمل ڈیزائننگ نہ کرتاہو اور نہ ہی وہ ڈیزائننگ ناجائز اور حرام اشیاء کی تشہیر کےلئے ہو ، تو ایسی صورت میں سائل کے لئے آن لائن گرافک ڈیزائننگ کرنے اور اس کےذریعے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنے استعمال میں لانے کی اگر چہ گنجائش ہے ، لیکن گاہگ کو اپنے ساتھ جوڑنے اور اپنی طرف متوجہ کرنےکےلئے جھوٹ بولنا اور غلط بیانی سے کا م لینا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في تكملة فتح الملهم: أما التلفزون والفديو فلا شك في حرمة استعمالهما بالنظر الى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة (الى قوله) أما الصورة التي ليس لها ثبات و استقرار و ليست منقوشة على شيئ بصفة دائمة فانها بالظل اشبه منها بالصورة ويبدوا أن صورة التلفزون والفديو لا تستقر على شيئ في مرحلة من المراحل اهـ ( ج 4 ص : 162)
وفي الموسوعة الفقهية الكويتية: القول الثاني: وهو مذهب المالكية وبعض السلف، ووافقهم ابن حمدان من الحنابلة، أنه لا يحرم من التصاوير إلا ما جمع الشروط الآتية: الشرط الأول: أن تكون صورة الإنسان أو الحيوان مما له ظل أي تكون تمثالا مجسدا فإن كانت مسطحة لم يحرم عملها، وذلك كالمنقوش في جدار و ورق، أو قماش بل يكون مكروها. ومن هنا نقل ابن العربي الإجماع على أن تصوير ما له ظل حرام ،الشرط الثاني: أن تكون كاملة الأعضاء، فإن كانت ناقصة عضو مما لا يعيش الحيوان مع فقده لم يحرم، كما لو صور الحيوان مقطوع الرأس أو مخروق البطن أو الصدر ،الشرط الثالث: أن يصنع الصورة مما يدوم من الحديد أو النحاس أو الحجارة أو الخشب أو نحو ذلك، فإن صنعها مما لا يدوم كقشر بطيخ أو عجين لم يحرم؛ لأنه إذا نشف تقطع على أن في هذا النوع عندهم خلافا، فقد قال الأكثر منهم: يحرم ولو كان مما لا يدوم اهـ ( ج : 12 ص : 102)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
میر اٖفضل اکبر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 69075کی تصدیق کریں
0     714
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات