اگربچہ لے کے پالیں اور اس کے نسب کا کچھ پتہ نہ ہو اس کے والدین کی جگہ اپنا نام لکھوادیں ،نیت نسب بدلنے کی نہ ہو، بلکہ کاغذی کاروائی کیلئے ایسا کریں علاوہ ازیں اس کا پاسپورٹ بنواکر مزید تعلیم کے لئے باہر بھی لے جانا ہو، کیا گنجائش ہےکہ ہم اپنا نام لکھوادیں؟ بچے کو بھی بعد میں بتادیں ،کہ ہم اس کے حقیقی والدین نہیں ہیں ۔براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ کسی دوسرے کے بچے کو گود لینا اور اس کو اپنی تربیت اور پرورش میں رکھنا فی نفسہ جائز ہے اور یہ بچہ شرعاً متبنیٰ(لے پالک) کہلاتا ہے ، تاہم آج کل اس میں کئی قسم کی شرعی قباحتیں اور مفاسد پائے جاتے ہیں، مثلاً : ایسے بچوں کو گود لینے والے سرکاری کاغذات جیسے برتھ سرٹیفیکیٹ، یا تعلیمی ریکارڈ وغیرہ میں اپنی اولاد کی حیثیت سے ان کا نام درج کراتے ہیں، اسی طرح عام معاشرتی زندگی میں اس بچے کے ساتھ اپنی اولاد کی حیثیت سے برتاؤ اور سلوک کرتے ہیں، لوگ بھی متبنیٰ کو اس گو د لینے والے کا بیٹا کہتے ہیں اور وہ بھی ان کو والدین سمجھتا ہے ، جبکہ قرآن کریم میں اس بات کا واضح طور پرحکم دیا گیا ہے کہ حقیقی والدین کے علاوہ کسی دوسرے کو والدین نہ ٹھہرایا جائے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کیلئے بچہ کو گود لینے اور اس کو پالنے میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں،البتہ اس کی ولدیت اپنی طرف منسوب کرنا یا سر کاری کاغذات وغیرہ میں ولدیت کے خانہ میں اپنا نام لکھوانا شرعاً جائز نہیں ،بلکہ گناہ کبیرہ ہے جس سے احتراز لازم ہے،تاہم سر پرست کے خانہ میں اپنا نام لکھوانے میں کوئی حرج نہیں ۔
کما قال الله تعالى: ﴿وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيل﴾۔(الأحزاب:4)۔
و فی تفسير المظهري:فان عند ابى حنيفة رحمه الله لا يعتق المملوك بقوله تبنيتك وجعلتك ابني وكذا لا يثبت النسب إذا قال لمجهول النسب تبنيتك وجعلتك ابني(4 /233)۔
وفی الھندیہ :ولا تحرم حليلة الابن المتبنى على الأب المتبني هكذا في محيط السرخسي اھ(1/ 339)۔