گناہ و ناجائز

تصویروں والی درسی کتابیں بنانے اور فروخت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
68453
| تاریخ :
2023-10-11
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

تصویروں والی درسی کتابیں بنانے اور فروخت کرنے کا حکم

جانوروں کے اسٹیکرز کی فروخت، کیا ہم جانوروں کے اسٹیکرز کو ڈیزائن کر کے بیچ سکتے ہیں؟ خاص طور پر جب وہ انسانی لباس پہنے ہوئے ہوں؟ مثال کے طور پر ایک بلی ایک لڑکے کی طرح ایک جیکٹ اور ٹوپی پہنے ہوئے؟ ایک اور متعلقہ سوال یہ ہے کہ بچوں کی رنگین کتابوں میں جانور بھی ہوتے ہیں، کیا اسلام میں یہ رنگین کتابیں بنانا اور بیچنا جائز ہے؟ اور اس کی کمائی حلال ہے یا حرام؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ احادیثِ مبارکہ میں تصویر اور مجسمہ سازی کے متعلق سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اس لئے فقہاء کرام نے ایسے کھلونے جن میں جاندار کی واضح تصویر ہو یا اس کھلونے پر جاندار کی شکل کے تمام خدو خال باریکی سے باقاعدہ مجسمہ یا بت کے طرز پر بنے ہوئے ہو ں، ا ن کی خرید وفروخت کو منع فرمایا ہے، اس لئے ایسے کھلونوں کے کاروبار سے اجتناب لازم ہے، تاہم اگر کھلونے پر جاندار کی تصویر نہ ہو یا باقاعدہ باریکی سے تمام خدو خال کے مطابق نہ بنا ہو ، بلکہ اس کا چہرہ مسخ ہوا ہو اور اب وہ ایک عام سا ڈھانچہ ہو ، یا تصویر غیر واضح ہو یا کھلونے بہت چھوٹے ہوں، جن پر تصویر کچھ دور سے دیکھنے سے واضح نظرنہیں آتی ہو یا کوئی چیز خریدتے وقت مقصود تصویر نہ ہو ، بلکہ وہ ضمناً اس پر لگی ہوئی ہو تو ایسے کھلونوں کی خرید و فروخت کی اجازت ہوگی، لہذا صورتِ مسئولہ میں جانوروں کے اسٹیکر بنا کر فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے، البتہ تصاویر والی کتابوں میں مقصودچونکہ کتاب کی خرید وفروخت ہوتی ہے، تصویرمقصود نہیں ہوتی، بلکہ تصویر اس کے تابع ہو تی ہےتو ایسی کتابوں کی خرید وفروخت کرنا جائز ہے اور اس کی آمدنی بھی حلال ہے، البتہ احتیاط اس میں بھی یہ ہے کہ تصویر والی چیز بالکل فروخت نہ کی جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مرقاۃ المفاتیح: عَنْ أَبِي طَلْحَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا تَصَاوِيرُ» ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
تحت ھذا الحدیث قَالَ أَصْحَابُنَا وَ غَيْرُهُمْ مِنَ الْعُلَمَاءِ: تَصْوِيرُ صُورَةِ الْحَيَوَانِ حَرَامٌ شَدِيدُ التَّحْرِيمِ، وَ هُوَ مِنَ الْكَبَائِرِ لِأَنَّهُ مُتَوَعَّدٌ عَلَيْهِ بِهَذَا الْوَعِيدِ الشَّدِيدِ الْمَذْكُورِ فِي الْأَحَادِيثِ اھ(7/2848)۔
و فی رد المحتار: و ظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان و قال: و سواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى و سواء كان في ثوب أو بساط أو درهم و إناء و حائط و غيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره اهـ كلام البحر ملخصا و ظاهر قوله فينبغي الاعتراض على الخلاصة في تسميته مكروها اھ (1/647)۔
و فیه ایضاً: و قدمنا ثمة معزيا للنهر أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما و إلا فتنزيها فليحفظ توفيقا اھ (6/391)۔
و فی درر الحکام فی شرح مجلة الاحکام: يغتفر في التوابع ما لا يغتفر في غيرها هذه القاعدة مأخوذة من كتاب الأشباه و قاعدة (يغتفر لشيء ضمنا ما لا يغتفر قصدا) قريبة من هذه القاعدة و تترجم هذه القاعدة من التركية قد يجوز تبعا ما لا يجوز ابتداء اھ (1/56)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حمزہ نفیس خان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68453کی تصدیق کریں
1     1360
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات