ہمارا construction کا کام ہے ،ہم legal کام کر رہے ہیں، تمام documents موجود ہیں , sbca ہر مہینے رشوت مانگنے آجاتی ہے، جبکہ ہم حق پر ہیں، وہ لوگ ایک دن کا بھی موقع نہیں دیتے اور تھو ڑنے کی دھمکیاں دینے لگ جاتے ہیں،اس معاملہ میں کیا ناجائز پیسے دے دینا چاہیئے ؟ کروڑوں کی ملکیت کا سوال ہے۔
سائل اگر قانونی تمام کاروائی مکمل کرتے ہوئے کنسٹرکشن کا کام کررہا ہو ، اور حکومتی کارندے بلاوجہ آکر تنگ کریں ،اور پیسے نہ دینے پر تعمیراتی کام میں رکاوٹ ڈالیں، تو ان کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں ،بلکہ اس کی وجہ سے وہ لوگ گناہ گار ہورہے ہیں،تاہم اگر پیسے نہ دینے کی صورت میں سائل کیلئے جائز اور قانونی تعمیرات میں پریشانی اور رکاوٹ ہو ،تو ایسی مجبوری کی صورت میں ان کو ان کو پیسے دینے کی گنجائش ہے اور اس کی وجہ سے سائل گناہ گار نہ ہوگا ،البتہ لینے والے بہر حال رشوت کے گناہ میں شریک ہوں گے۔
کما فی ردالمحتار: (قوله: دفع النائبة والظلم عن نفسه أولى إلخ)(الی قوله) فإن أكثر النوائب في زماننا بطريق الظلم فمن تمكن من دفع الظلم عن نفسه فذلك خير له اهـ (2/336)۔والله اعلم