کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص (بہنوئی ) کا اپنی سالی کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم ہوا ،لیکن انہوں نے کبھی ایک دوسرے کو چھوا نہیں ،اور نہ ہی کبھی بوس و کنار ہوا ،البتہ ایک مرتبہ شخصِ مذکور کے عضوء خاص پر سالی کا ہاتھ لگ گیا جس کی وجہ سے اس کو انزال ہوگیا ،اب آیا کہ اس سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہوگی یا نہیں ؟ اور اس شخص کے نکاح پر کچھ اثر پڑے گا یا نہیں ؟اور اب شخصِ مذکور اور اس کی سالی اپنے بچوں کا ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کرنا چاہتے ہیں آیا کہ یہ نکاح کروانا درست ہوگا یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص کا اپنی سالی کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرکے بے تکلف ہوجانا شرعاً ناجائز اور حرام عمل تھا ، جس کی وجہ سے دونوں گنہگار ہوئے ہیں، ان کے ذمہ اپنے اس عمل پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ ان امور سے مکمل اجتناب اور سالی کا اپنے بہنوئی سے پردے کا اہتمام کرنا لازم اور ضروری ہے ،جبکہ مذکور شخص اور اس کی سالی نے اگر مذکور موقع کے علاوہ کسی اور موقع پر ایک دوسرے کے جسم کو بغیر کسی حائل کے ،شہوت کے ساتھ چھوا نہ ہو،اور حالیہ واقعہ میں بہنوئی کے عضوِ خاص کو سالی کا ہاتھ لگنے موقع پر ہی اسے انزال ہو اہو تو ایسی صورت میں اس سے شرعاً حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی ،جبکہ سالی اور بہنوئی کے دوستانہ تعلقات کی وجہ سے بہنوئی کے نکاح پر شرعاً کوئی اثر نہیں پڑا ، بلکہ دونوں میاں بیوی حسبِ سابق زندگی بسر کرسکتے ہیں ،اسی طرح مذکور شخص اور اس کی سالی کی اولادوں کا ایک دوسرے کے ساتھ نکاح کرنا شرعاً جائز اور درست ہے ۔
فی الدر المختار :(و أصل ماسته و ناظرة إلى ذكره و المنظور إلى فرجها) المدور (الداخل) و لو نظره من زجاج أو ماء هي فيه (الیٰ قولہ) هذا إذا لم ينزل فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة به اھ(3/33)۔
و فی الفتاوى الهندية : و شرطه أن لا ينزل حتى لو أنزل عند المس أو النظر لم تثبت به حرمة المصاهرة ، كذا في التبيين . قال الصدر الشهيد و عليه الفتوى ، كذا في الشمني شرح النقاية . و لو مس فأنزل لم تثبت به حرمة المصاهرة في الصحيح ؛ لأنه تبين بالإنزال أنه غير داع إلى الوطء اھ(1/275)۔