گناہ و ناجائز

والد کے لیے والدہ سے ناراض بیٹے کے ساتھ مالی تعاون کا حکم

فتوی نمبر :
68056
| تاریخ :
2023-09-27
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

والد کے لیے والدہ سے ناراض بیٹے کے ساتھ مالی تعاون کا حکم

بیان حلفی!
میں مسمی ۔۔۔۔۔۔، شناختی کارڈ نمبر ۔۔۔۔۔۔۔میری شادی 1981 میں مسماۃ ۔۔۔سے ہوئی اور میرے 8 بچے ہے،( تین بیٹیاں اور پانچ بیٹے) 2003 میں ۔۔۔۔۔سے میری شادی ہوئی، میری پہلی بیوی کی رضا مندی سے، جو کہ میری بیوی نے مجھے کہا تھا کہ "وہ یتیم ہے، اس سے شادی کرلوں" پھر شادی کے بعد میری پہلی بیوی نے کہا کہ آپ دوسری بیوی کے پاس نہیں جاؤ گے، لیکن میں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیوں کہ یہ میری بیوی ہے، پھر میری دوسری بیوی اپنے گھر چلے گئی، اور میرا (6) سال کیس چلا، پھر میری دوسری بیوی نے کہا کہ آپ کا وکیل میرے ساتھ ہو گیا ہے، آپ دوسرا وکیل کر لو، میری دوسری بیوی کی ایک بھانجی تھی جس سے میرا بڑا بیٹا ر یحان محبت کرتا تھا، میری دوسری بیوی نے ریحان کو کہا کہ اپنی والدہ کو رضامند کرلومیں شادی کروا دونگی، پھر میرے بیٹے ریحان نے اپنے دوست کا گھر خالی کروایا تا کہ اپنی والدہ سے رضا مندی ہو جائے، اور مجھے ریحان نے بتایا کہ دوسری امی آرہی ہیں، میں نے کہا کہ بیٹا یہ تو اب امی نہیں روکنے دے گی، تو ریحان نے بتایا کہ میں نے اپنے دوست کا گھر خالی کروایا ہے، آپ دوست کے گھر پر رہنا، پھر ہم دو دن رہے، ہماری سلام دعا ہوگئی، پھر میری دوسری بیوی نے کہا کہ میرا آپریشن ہے، میرا آپریشن کرواؤ، اس کے پیٹ میں روسولی تھی، میں نے کہا کہ تم پیسے لے جاؤں آپ خود کروالوں، انہوں نے کہا کہ آپ خود چلوں ورنہ مجھے فارغ کر دو، میں نے کہا کہ میں شام میں آپ کو بتا تا ہوں، میں نے پہلی بیوی سے کہا کہ میں پنجاب جا رہا ہوں اپنی دوسری بیوی کا آپریشن کروانے،میں نے لاہور میں آپریشن کروایا، میں نے کہا کہ میں خود خرچہ کروں گا آپ کے مہمان جو بھی میں خرچہ کروں گا میں وہاں سے گھر آیا بھورے والا، میری دوسری بیوی کے نانا کے گھر، میری بیوی نے کہا کہ یہ میرے نانا کی زمین ہے اس پر مجھے گھر بنا کر دو، میں رضامند ہوا، اور میں نے دو ماہ میں گھر تیار کر کے دیا، میری پہلی بیوی نے چار بچوں کی شادی کی تھی اور میری پہلی بیوی کا انتقال 2011 میں ہوا، میری چھوٹی بیوی نے کہا کہ میں جب تک نہ آؤں ان کو دفنانہ نہیں، پھر تین دن کے بعد وہ پنجاب چلی گئی، پھر کچھ دن کے بعد میں نے اپنے بچوں کو کہا کہ میرے لئے مسئلہ ہو رہا ہے، میں دوسری بیوی کو کراچی لیکر آ جاؤ، تو بچوں نے کہاکہ لیکر آجاؤ، کچھ دن کے بعد چھوٹے بیٹے ۔۔۔۔۔کی شادی کروائی میری دوسری بیوی نے، اس سے پہلے دوسرا آپریشن اس کا ہوا تھا، تو شادی ہوگی، اور بچوں نے کہا کہ دوسری امی کو لیکر آ جاؤ ،تو میں نے کہا کہ 32 ٹانکے لگے ہیں ، لیکن میری بیوی نے کہا کہ نہیں میں خود شاپنگ کرواؤں گی، پھر شادی کی شاپنگ کی، پھر شادی ہوگئی، دلہن سے 9ماہ تک کام نہیں کروایا،جب ہاتھ لگوایا کھانے میں پھر دوسرے دن لڑکی کے ماں باب لیکرچلے گئے، بعد میں کہا کہ ہم لڑکی کوجب بھیجیں گے،جب آپ لڑکے کو الگ کریں گے، پھر ہم نے کہا کہ چلوں ہم الگ کر دیں گے، آ پ لڑکی کوبھیجو، پھر الگ رہنے لگے، پھر میری بیوی نے کہا کے میری بھانجی سے میرے بیٹے۔۔۔ سے شادی کروا دو، میں نے کہا کہ یہ صحیح نہیں ہے، میرا بڑا بیٹا اس سے محبت کرتا تھا، میرے بیٹوں کی آپس میں لڑائی ہوگی، میرے بچوں نے کہا یہ شادی ہوئی تو ہم گھر میں نہیں رہیں گے، نہ ہی شادی میں جائیں گے، جس پر میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ بچے کی شادی کسی اور سے کر دیں گے، جو خرچہ ہو گا ہم کر دیں گے، لیکن میری بیوی لڑتی رہی اور ہمارے درمیان لڑائی ہوگئی، پھر میری بیوی نے کہا کہ اگر تم اس کی اپنے بیٹے سے شادی نہیں کرواؤ گے تو مجھے چھوڑ دو، آخر کار ہم نے شادی کر دی،بڑا بیٹا اور بڑی بیٹی شادی میں شامل نہیں ہوئے باقی سب لوگ شامل ہوئے، شادی کے کچھ عرصہ بعد رشتہ داروں نے سمجھایا کہ شادی تو ہوئی ہے صلح کر لو، پھر صلح ہوگئی، تقریباً3 سال بہت اچھے معاملات تھے، میری بیوی نے کہا کہ اگر تمہیں کچھ ہوا تو میرا بڑا بیٹا۔۔۔۔سبنھالے گا کوئی دوسرا خیال کرے یہ نہ کرے مجھے ان سے امید نہیں ہے، 2021 میں میں کراچی اجتماع سے 40 دن کے لیے جماعت میں گیا، باقی بچے سب الگ الگ سے سب آتے جاتے تھے،مسمی۔۔۔ اپنی امی کے ساتھ رہتا تھا، کچھ خرچہ میں مہینے کا دے کر گیا اور 70 ہزار روپے میں دے گیا، میری بیوی نے وہ الماری میں رکھ دیئے، کچھ دن بعد اس نے پیسے دیکھے تو پیسے نہیں تھے تو اس نے بچوں کو کہا کہ آپ میں سے کسی نے پیسے لیئےہیں؟تو سب نے کہا کہ کسی نے نہیں لیئے، گھر پر خرچہ بالکل نہیں تھاتو بیٹے۔۔۔۔ سے مانگے، تو اس نے کہا کہ نہیں ہیں، پھر میرے چھوٹے بھائی کے پاس گئے تو اس سے توڑا خرچہ لیا، جب میں واپسی آیا تو میری بیوی نے مجھے بتایا کہ پیسے چوری ہو گئے ہیں، کسی بچے نے اٹھائے ہیں، پھر میں نے اپنے بچوں کو جمع کیا کہ پیسے کسی نے اٹھائے ہیں تو وہ الماری میں رکھ دے اور کسی کو معلوم نہیں ہوگا اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا، سب نے کہا کہ ہم نے نہیں اٹھائے، جب میں نے ان سے دوبارہ پوچھا، تو۔۔۔۔نے کہا کہ یہ جھوٹی ہے، انہوں نے خود اٹھائے ہیں، میری بیوی نے کہا کہ جس نے بھی اٹھائے ہے خدا ان کی ماں کی قبر میں کیڑے ڈالے، جس پر بڑے بیٹے نے اپنی والدہ کے سینے پر ہاتھ مارا، پھر میں نے اٹھ کر اس کو مارا، میرے تین بیٹوں نے مجھے پکڑ لیا اور اپنے بھائی کو نہیں پکڑا ۔۔۔۔ نے دوبارہ جا کر اپنی والدہ کے بال پکڑ کر کھینچے، جس پر میں نے تینوں بیٹوں کو مارا ،پھر 15 دن مسمی ۔۔۔۔اور مسمی ۔۔۔کو ٹائم دیا 15 دن میں گھر خالی کر دو، ورنہ میں قانونی کاروائی کروں گا، جس پر ایک بیٹا۔۔۔ پنجاب چلا گیا اور دوسرا بیٹا اپنے بھائی کے گھر چلا گیا، کرایہ پر تین ماہ کے بعد مسمی ۔۔۔۔کا بیٹا بیمار ہوگیا، تو ان کی تصویر دکھائی گئی اس کی دادی کو کیوں کہ اس کی بھانجی کا بیٹا تھا، پھر میری بیوی نے کہا کہ میرے بچوں کو دوبارہ کراچی بلاؤ، مجھے سے 10ہزار روپے لیکر دیئے، جب کہ پہلی غلطی ۔۔۔ کی تھی انہوں نے آکر معافی مانگی، تو ان کی والدہ نے ان کو معاف کر دیا، بڑا بیٹا ۔۔۔ جس نے ہاتھ اٹھایا تھا وہ اس وقت حالات کی وجہ سے بہت پریشان ہے، گھر کا سامان فروخت کیا اب میرے رشتے دار کہتے ہیں کہ اس کو معاف کر دو، لیکن میری بیوی کہتی ہے میں اس کو معاف نہیں کروں گی، یا تم ۔۔۔۔ کو رکھو یا پھر مجھے چھوڑ دو، کیوں کہ اس وقت میں بہت پریشان ہوں،کیوں کہ اس وقت میں بیوی کو بھی نہیں چھوڑ سکتا اور بیٹے کو بھی نہیں، اس کے بچے بھوکے رہتے ہیں، لوگ کہتے ہیں رمضان بھائی آپ کا نماز پڑھنا،تبلیغ میں جانے کا کیا فائدہ، آپ کے بچے بھوکے رہتے ہیں ،میرے بڑے بھائی آئے میری بیوی کو سمجھانے کے لیئے، ایک ہمارے قاری صاحب ہیں بچپن کے انہوں نے بھی آکر سمجھایا کہ مسمی ۔۔۔کو معاف کردیں، لیکن میری بیوی ایک ہی بات پر ہے کہ میں معاف نہیں کروں گی، نماز بھی پڑھتی ہے اور ذکر واذ کار بھی کرتی ہے،اور ایک بار میں راستے میں گرا تو اس نے مجھے اٹھا یا بھی نہیں، مفتی صاحب آپ مجھے بتائیں میں کیا کروں، جو دین کہتا ہے وہ آپ بتائیں کیونکہ آپ بہتر جانتے ہیں کہ بیوی جائے یا بیٹا جائے، مجھے اللہ کے سامنے جواب دیناہے، آپ رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ : مکمل سوال کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ سائل نے دو شادیاں کی ہیں، پہلی بیوی کے ایک بیٹے مسمٰی ۔۔۔۔نے اپنی دوسری والدہ پر ہاتھ اٹھایا، جس کے بعد سے والدین نے اس کو الگ کر دیا اور قطع تعلقی رکھی ہوئی ہے، اب مذکور بیٹے کے مالی حالات اچھے نہیں ہیں، جبکہ والد اپنے بیٹے کے ساتھ تعاون کرنا چاہتا ہے، لیکن اسکی دوسری بیوی اسکو اپنے بیٹے کے ساتھ تعاون کرنے اور ملنے وغیرہ سے منع کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اگر بیٹے سے ملو گے تو مجھے طلاق دیدو، آپ رہنمائی فرمائیں میری بیوی کا یہ مطالبہ شرعاً درست ہے یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ تفصیل اور نوٹ میں درج کردہ وضاحت کے مطابق سائل کےبڑےبیٹےمسمٰی"ریحان"کیلئےاپنی(سوتیلی)والدہ پر ہاتھ اٹھانا تو شرعاً درست عمل نہیں تھا،جس پر وہ سخت گناہ گار ہوا ہے،اسے توبہ و استغفار اور والدہ سے دست بستہ معافی مانگنی چاہئے ، البتہ اگر سائل کا بیٹا والدہ سے معافی مانگ لے، تو اسے بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیٹے کو معاف کر دینا چاہئے۔
معافی مانگنے کے باوجود، کسی کو معاف نہ کرنا شرعاً قابل مذمت عمل ہے، اور احادیث میں اسکی سخت مذمت بیان ہوئی ہے، اس لئے سائل کی بیوی کو چاہیئے کہ اپنے بیٹے کو معاف کرتے ہوئے اجر و ثواب کی مستحق بنے۔
جبکہ سائل کی بیوی کا بیٹے مسمٰی ریحان سے ناراضگی کیوجہ سے اپنے شوہر (سائل) کو اسکے ساتھ تعاون کرنے سے روکنا اور اسکے ساتھ تعاون اور صلح کی صورت میں شوہر سے طلاق اور علیحدگی کا مطالبہ کرنا قطعاً درست نہیں، اور نہ ہی سائل کیلئے اس کے متعلق اپنی بیوی کی بات ماننا لازم اور ضروری ہے، بلکہ سائل کا بیٹا اگر محتاج ہو توسائل کیلئے اسکے ساتھ تعاون کرنا بلا شبہ جائز بلکہ باعثِ اجر و ثواب ہے، لہٰذا سائل کی بیوی کا سائل سے اس طرح مطالبات کر کے باپ،بیٹے کے درمیان قطعِ تعلق پیدا کرنے سے اجتناب لازم اور ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشكاة المصابيح: ٥٠٣٥ (٩) (صحيح) وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث فمن هجر فوق ثلاث فمات دخل النار» . رواه أحمد وأبو داود(3/1400)
و فی مشكاة المصابيح:وعن جابر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من اعتذر إلى أخيه فلم يعذره أو لم يقبل عذره كان عليه مثل خطيئة صاحب المكس» . رواهما البيهقي في «شعب الإيمان» وقال: المكاس: العشار۔(3/1403)
و فی مرقاة المفاتيح:٥٠٥١ – (وعن جابر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: من اعتذر إلى أخيه) أي: المسلم (فلم يعذره) بفتح الياء ويضم وكسر الذال (أو لم يقبل عذره)شك من الراوي وهو تفسير ما قبله(كان عليه مثل خطيئة صاحب
مكس).بفتح الميم أي صاحب عشر، ولما كان الغالب عليه الظلم وعدم العمل بالعلم أطلق ذمه، أو المراد بالمكس أخذ مال الناس بالظلم، ثم رأيت القاموس فقال: المكس النقص والظلم. (رواه البيهقي في شعب الإيمان) . وفي الجامع: رواه ابن ماجه والضياء عن جودان ولفظه: «من اعتذر إليه أخوه بمعذرة فلم يقبلها كان عليه من الخطيئة مثل صاحب مكس» . (قال) أي: البيهقي في تفسير حديثه (المكاس:العشار).وفي بعض الأصول الماكس:العشار، ولعل المناسبة التشبيهية أن صاحب المكس أيضا لم يقبل اعتذار التاجر في قوله: إن ماله مال أمانة، أو أخذ منه في بندر آخر، أو أنه مديون ونحو ذلك، وكون المشبه به أقوى هو أنه مع هذا يظلم عليه بأخذ ماله مع التعدي إلى الزائد، ونقل ميرك عن المنذري أن حديث جابر رواه الطبراني أيضا في الأوسط، وروي عن عائشة مرفوعا: " «من اعتذر إلى أخيه المسلم فلم يقبل عذره لم يرد على الحوض» ". رواه الطبراني في الأوسط. (8/163)
و فی السنن الكبرى: عن أبي مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا أنفق الرجل على أهله وهو يحتسبها كانت له صدقة»(3/55)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شہزاد ذوالفقار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 68056کی تصدیق کریں
0     533
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات