گناہ و ناجائز

ویڈیو دیکھنے اور لائیک کرنے کی آمدن کا حکم

فتوی نمبر :
67761
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ویڈیو دیکھنے اور لائیک کرنے کی آمدن کا حکم

السلام علیکم، سوال یہ پوچھنا تھا کہ ایک آنلائن ایپ ہے جس سے میرے قریبی لوگ پیسے کما رہے ہیں اور مجھے بھی اس کی ترغیب دے رہے ہیں، مگر میں فتویٰ کا منتظر ہوں، ایپ کا اصول یہ ہے کے آپکو ١٥٠٠٠ دینے ہونگے جسپر آپکو ہر ماہ ١٨٠٠٠ دیے جائیں گے جس میں آپکو مخصوص یوٹیوب چینل کی ویڈیو دیکھنی ہونگی اور اس میں کوئی فحش کونٹینٹ بھی نہیں، جیسے خانہ بنانے کی ویڈیو۔
پیج کا نام :(food fusion y)کی ویڈیو ز اور تصاویر لائیک کرکے ایپ کے مالک کو اسکا سکرین شاٹ بھیج کر یقینی بنانا ہوگا کہ آپ نے اسکو دیکھا ہے، اور روز کی ١٢ ویڈیو پر اس طرح کرنا ہے جس کے بدلے آپکو پیسے دیے جائینگے اور ١٢ سے کم دیکھی تو پیسے بھی کم ہونگے، تو کیا یہ جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ ویڈیوز، تصاویر وغیرہ دیکھنے کا کام اجارہ (ملازمت) کا فعل ہے اور اجارہ جس چیز یا عمل پر منعقد ہو اس چیز یا عمل کاشرعا مقصود اور منافع بخش ہونا ضروری ہے، وگرنہ اس پر اجرت لینا شرعا درست نہیں ہوتا،لہذا صورت مسئولہ میں ویڈیو ز، تصاویر دیکھنایااسے لائک کرناکوئی ایسا عمل یا منفعت نہیں جو اصلاً مقصود ہو اور شرعاً اس کی اجرت لی جا سکے۔ مزید یہ کہ اس نوعیت کی بہت سی ایپس لوگوں کا سرمایہ لے کر بند ہوجاتی ہیں ، جس سے مالی نقصان پیدا ہوتاہے ،اس لئے اس طرح کے ایپ میں انوسٹ کرکے پیسے کمانے سے اجتناب چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار:(ھی)لغۃ اسم للأجرۃ وھو ما استحق علی عمل الخیر ولذا یدعی بہ یقال اعظم اللہ أجرک(تملیک نفع)مقصود من العین(بعوض)حتی لو استاجر ثیابا أو أوانی لیتجمل بھا أو دآبۃ لیجنبھا بین یدیہ أو دارا لیسکنھا أو عبدا أو غیر ذلک لا لیستعملہ بل لیظن الناس أنہ لہ فالإجارۃ فاسدۃ فی الکل ولا أجر لہ لأنھا منفعۃ غیر مقصودۃ من العین الخ
وفی الشامیۃ:تحت(قولہ مقصود من العین)أی فی الشرع ونظر العقلاء(إلی قولہ)فإنہ و إن کان مقصودا للمستأجر لکنہ لا نفع فیہ ولیس من المقاصد الشرعیۃ الخ(کتاب الاجارۃ، ج6، ص4، ط:سعید)۔
وفی الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:الإجارۃ علی المنافع المحرمۃ کالزنی والنوح والغناء والملاہی محرمۃ وعقدہا باطل لا یستحق بہٖ أجرۃ۔ولا یجوز استئجار کاتب لیکتب لہٗ غنائً ونوحًا،لأنہٗ انتفاع بمحرم۔وقال أبو حنیفۃ:یجوز،ولا یجوز الاستئجار علی حمل الخمر لمن یشربہا،ولا علی حمل الخنزیر الخ(کتاب الاجارۃ،الاجارۃ علی المعاصی ،ج:1،ص:290،دارالسلاسل)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سعید اللہ لطیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67761کی تصدیق کریں
0     134
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات