گناہ و ناجائز

خواتین کی تصاویر والے کپڑوں کی ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا حکم

فتوی نمبر :
67261
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

خواتین کی تصاویر والے کپڑوں کی ڈیجیٹل مارکیٹنگ کا حکم

السلام علیکم !میں ایک ڈیجیٹل مارکیٹر ہوں ، اور مختلف کاروبار کی آنلائن ڈیجیٹل مارکیٹنگ کرتا ہوں ، کیا میرے لۓ یہ جائز ہے کہ میں عورتوں کے کپڑوں کے برانڈ کی ڈیجیٹل مارکیٹنگ کروں جس کے اشتہارات میں عورتوں نے عورتوں والا لباس پہنا ہو ؟ اور کیا اس مارکیٹنگ سے کمائے گئے پیسے میرے لۓ حلال ہوں گے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عورتوں کے کپڑوں کی ڈیجیٹل مارکٹنگ کرنا درست ہے ،اس سے حاصل ہونے والی کمائی بھی حلال ہے ،البتہ اس میں عورتوں کی بےپردہ اور حیا سوز تصاویر کھنچوانا اور اس کی مارکیٹنگ کرنا شرعاً ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے،لہٰذا سائل کیلئے عورتوں کے کپڑوں کی مارکیٹنگ کے دوران عورتوں کی بے پردہ تصاویر کو مٹانا یا بلر (غیر واضح )کرنا لازم ہے،ورنہ اس کی کمائی حلال و طیب نہ رہے گی ،اس لئے اس سے بچنا لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسَانِ وَ إِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَ يَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ(النحل/90)۔
و فی الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ : الإْجَارَةُ عَلَى الْمَنَافِعِ الْمُحَرَّمَةِ كَالزِّنَى وَ النَّوْحِ وَ الْغِنَاءِ وَ الْمَلاَهِي مُحَرَّمَةٌ وَ عَقْدُهَا بَاطِلٌ لاَ يُسْتَحَقُّ بِهِ أُجْرَةٌ .وَ قَال أَبُو حَنِيفَةَ: يَجُوزُ، وَ لاَ يَجُوزُ اسْتِئْجَارُ كَاتِبٍ لِيَكْتُبَ لَهُ غِنَاءً وَ نَوْحًا ؛ لأِنَّهُ انْتِفَاعٌ بِمُحَرَّمٍ . اھ(1/290)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حشمت علی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67261کی تصدیق کریں
0     1102
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات