گناہ و ناجائز

سرکاری ملازم کو غیر قانونی ریلیف دینا

فتوی نمبر :
66969
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سرکاری ملازم کو غیر قانونی ریلیف دینا

اپنے ماتحت گورنمنٹ ملازمین کو کسی قسم کاریلیف دیا جا سکتا ہے ؟ جیسے کہ آٹھ گھنٹے ٹوٹل ڈیوٹی میں اس کو دو یا تین گھنٹے کا پتہ لگوانا یا اس کی غیر حاضری پر اس کو حاضر ظاہر کرنا، کسی فی میل اسٹاف یا سب آرڈینیٹ کو جو یتیم یا بیوہ ہو ، اس کو اس کے ڈیوٹی ٹائم سے relaxation دینا کہ اس نے گھر جا کر اپنے بچوں کے لیے کھانا وغیرہ کا انتظام کرنا ہوتا ہے ، تو کیا اس کو دیئے گئے ریلیف کا جواب روز آخرت اس انچارج کو دینا ہو گا جس نے اس کو ریلیف دیا؟ کیوں کہ گورنمنٹ ملازمین کو تنخواہیں گورنمنٹ آف پاکستان سے ملتی ہیں، جو عوام کا ٹیکس ہے، اسی طرح جس ٹائم کی انچارج نے relaxation دی ، اس کی تنخواہ بھی ملی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مسئولہ صورت میں کسی ادارے کے انچارج کے لیے اپنے ماتحت ملازمین کو فقط اسی قدر رعایت دینے کی شرعاً گنجائش ہے کہ جس کی اسے گورنمنٹ کی طرف سے باضابطہ اجازت ہو ، اس سے زیادہ رعایت دینا شرعا درست نہیں ، جس سے احتراز چاہیے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 66969کی تصدیق کریں
0     121
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات