گناہ و ناجائز

خواتین کا ایک دوسرے کے سامنے کپڑے تبدیل کرنا

فتوی نمبر :
66231
| تاریخ :
2023-07-17
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

خواتین کا ایک دوسرے کے سامنے کپڑے تبدیل کرنا

محترم مفتی صاحب، السلام علیکم
میری بیوی اور میں, آپ کی ہدایت و رہنمائی چاہ رہے ہیں ایک معاملہ کے سلسلے میں, جو خاندانی روایات اور رازداری سے متعلق ہے۔
میری بیوی کے والدین کے گھر میں یہ عمل معمول ہے کہ خاندان کی خواتین ایک دوسرے کے سامنے بالکل عریاں ہو جاتی ہیں(مکمل برہنہ) مثلاً، کپڑے بدلنے کے لئے وغیرہ۔ جب بھی میری بیوی اپنے خاندان کے گھر جاتی ہیں تو وہ یہ عمل جاری رکھتی ہیں , ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ اس عمل کی اسلام میں اجازت ہے یا نہیں؟
میری بیوی میری اس بات کی عزت کرتی ہیں کہ مجھے اس عمل سے تکلیف ہوتی ہے اور اگر یہ اسلام میں جائز نہیں ہوتا تو وہ اسے بند کرنے کے لئے تیار ہیں , اس معاملے پر آپ کی عالمانہ مشورہ و ہدایت ہمارے لئے بہت قدر کی چیز ہو گی۔
کیا آپ قرآن و حدیث یا دیگر اسلامی مؤثق ذرائع سے حوالے دے کر اپنی مشورہ کی تصدیق کر سکتے ہیں؟ ہم اس مسئلے کو بہتر سمجھنا چاہتے ہیں۔
آپ کے وقت اور توجہ کا شکریہ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرچہ ایک عورت کے لئے دوسری عورت سے پردہ کرنے کا وہ حکم نہیں جو کسی مرد سے پردہ کرنے کا حکم ہے، بلکہ ایک عورت دوسری عورت کے اعضائے مستورہ (ناف سے لیکر گھٹنے تک پورا بدن) کے علاوہ باقی بدن دیکھ سکتی ہے، لیکن اس سے بھی احتیاط بہر حال افضل ہے ، جبکہ ناف سے لیکر گھٹنوں تک کا حصہ کسی عورت کے سامنے بغیر کسی شدید مجبوری (جیسے علاج معالجہ وغیرہ) کے کھولنا جائز نہیں، بلکہ اس سے اجتناب لازم ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 66231کی تصدیق کریں
0     999
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات