گناہ و ناجائز

کسی بھی دکان یا پروڈکٹ کا کوئی اچھوتا نام رکھنا

فتوی نمبر :
66211
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کسی بھی دکان یا پروڈکٹ کا کوئی اچھوتا نام رکھنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان کرام اس مسئلے میں کہ کچھ لوگ اپنے جائز کاروبار کو محض شہرت حاصل کرنے کے لیے اس کا کوئی ایسا اچھوتا نام رکھ لیتے ہیں جیسے چرسی تکہ وغیرہ۔ حالانکہ نشہ کرنا اسلام میں منع ہے۔ چونکہ اس طرح سے گناہ کی باتوں کی تشہیر ہوتی ہے، تو کیا اس طرح کے نام رکھنا شرعا جائز ہے ؟ عوام کو ایسی دکانوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا چاہیے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مذکور نام عام طور پر چونکہ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے اور دلچسپی وغیرہ کی نیت سے رکھے جاتے ہیں، ان ناموں سے لوگوں کو نشہ آور اشیاء کی طرف راغب کرنا مقصود نہیں ہوتا، اور نہ ہی ان کے ذریعہ لوگ ایسی اشیاء کی طرف عموما راغب ہوتے ہیں، اس لیے اس طرح کے نام رکھنے کی گنجائش تو ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ کوئی اچھا اور پاکیزہ نام رکھا جائے، تاکہ اس کے نتائج اور اثرات اچھے مرتب ہوں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في صحيح البخاري: 6193 - حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا هشام، أن ابن جريج، أخبرهم قال: أخبرني عبد الحميد بن جبير بن شيبة، قال: جلست إلى سعيد بن المسيب، فحدثني: أن جده حزنا قدم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «ما اسمك» قال: اسمي حزن، قال: «بل أنت سهل» قال: ما أنا بمغير اسما سمانيه أبي قال ابن المسيب: «فما زالت فينا الحزونة بعد» اھ (8/ 43) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 66211کی تصدیق کریں
0     120
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات