گناہ و ناجائز

قبرستان کی باؤنڈری وال کے اندر والی زمین پر تعمیر کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
65667
| تاریخ :
2022-09-24
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

قبرستان کی باؤنڈری وال کے اندر والی زمین پر تعمیر کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے محلے میں (ایم پی ار کالونی) بلوچ گوٹھ کے قبرستان کے باؤنڈری کے اندر عرصہ ۴۰ سال سے تقریباً ایک سو تیس (۱۳۰) مربع گز پلاٹ ہے جس میں آج تک کسی کی تدفین نہیں ہوئی ہے، یہ جگہ قبرستان کے اِس باؤنڈری سے پیوست مکان والا اپنا استعمال میں لانا چاہتا ہے، جس پر جامع مسجد حنفیہ کی کمیٹی والوں نے اور محلے والوں نے فیصلہ کیا اس متنازع مسئلے کو حل کرنے کے لۓ اس پلاٹ کو مسجد کے زیر نگرانی استعمال میں لایا جائے ، اس پر مکان تعمیر کر کے مؤذن یا پیش امام یا بچوں کی پڑھائی کے لۓ استعمال ہو، تاکہ کوئی اور بندہ اس پر کوئی تعمیر نہ کریں، اس سلسلے میں آپ صاحبان سے گذارش ہے کہ اس کو درجہ بالا استعمال میں لانے پر یا پڑوسی کے اپنے استعمال میں لانے پر شرعی حکم درکار ہے، کہ آیا اسلام میں اس قبرستان کی باؤنڈری وال کے اندر والی زمین پر کسی قسم کی تعمیراتی منصوبہ بندی جائز ہے یا نہیں؟ راہ نمائی فرما کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں اس بات کی صراحت موجود نہیں کہ ایک سو تیس مربع گز پر مشتمل رقبہ باقاعدہ وقف قبرستان کا حصہ ہے یا نہیں، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم قبرستان کے اندر واقع ایک سو تیس گز پر مشتمل رقبہ اگر باقاعدہ وقف قبرستان کا حصہ ہو، (اگرچہ وہاں عرصہ چالیس سے تدفین نہ ہوئی ہو) تب بھی قبرستان کے قریب رہائش اختیار کرنے والے مذکور شخص کے لۓ اس رقبے کو اپنے استعمال میں لانا قطعاً جائز نہیں، بلکہ ناجائز وحرام ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
اسی طرح مذکور زمین میں اگرچہ ایک عرصہ سے تدفین نہ ہوئی ہو، لیکن اگر یہ جگہ قبرستان کے لۓوقف ہو تو ایسی صورت میں واقف کے منشاء کے مطابق مذکور زمین تدفین کے لۓ ہی استعمال کرنا ضروری ہے، مسجد انتظامیہ کے لۓ بھی اس حصے پر امام کے لۓ رہائش گاہ تعمیر کرنا یا بچوں کی پڑھائی کے لۓ مدرسہ بنانا درست نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار: قولهم: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة اھ (4/ 433)
وفی حاشية ابن عابدين: أنهم صرحوا بأن مراعاة غرض الواقفين واجبة اھ (4/ 445)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 65667کی تصدیق کریں
0     871
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات