کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری مسجد کے مؤذن صاحب ( جو کہ حافظ قرآن ہیں ) دودھ کا کام کرتے ہیں ، جس کے لۓ و ہ گھروں میں جا کر دودھ سپلائی کرتے ہیں ، ان کو اس کی اجازت دی گئی ہے کہ وہ نماز کے بعد اپنی ذمہ داری پوری کر کے کام کر لیا کر یں، لیکن ان کی یہ عادت بن گئی ہے کہ روزانہ عصر اور عشاء اور کبھی ظہر کی اذان دے کر سپلائی کرنے چلے جاتے ہیں اور جماعت کھڑی ہونے سے ۴ یا ۵ منٹ پہلے آجاتے ہیں، اور وضو کر کے اگر سنت کا وقت ہو تو سنت پڑھ لیتے ہیں ۔
اور دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اکثر فجر میں خاص طور پر بناوضو کیے اذان دیتے ہیں اس کے بعد وضو کر تے ہیں ، اس بارے میں جب امام صاحب (جو کہ عالم دین ہیں ) نے ان سے کہا کہ آپ مؤذن ہیں اذان کے بعد مسجد سے جانا اور بغیر وضو اذان دینا اچھی بات نہیں تو انہوں نے کہا صرف مکروہ ہے اور پھر اپنے معمول کے مطابق ہی کرتے ہیں اور مؤذن صاحب ظہر کے مستقل امامت بھی کر واتے ہیں۔
سوال نمبر ا : کیا مؤذن صاحب کا اذان کے بعد مسجد سے باہر جانا تجارت کے لۓ مناسب عمل ہے ؟
سوال نمبر ۲ : کیا بغیر وضو اذان دینامناسب عمل ہے ؟
سوال نمبر 3 : ایسے عمل کرنے والے کی امامت میں نماز پڑھنا درست ہے ؟ جبکہ ان کو تنبیہ بھی کی گئی ہے، مؤذن صاحب ظہر اور عصر کے مستقل امام بھی ہیں ۔
سوال نمبر ۴ : کمیٹی والے کی کیاذ مہ داری بنتی ہے کہ اگر مؤذن صاحب مسجد میں ہی دین پر عمل نہ کریں، برائے مہربانی ترتیب وار جواب مرحمت فرمائیں تفصیل کے ساتھ ۔
اذان کے بعد اگر اتناوقت ہو کہ مؤذن موصوف اس دوران کسی کو دودھ پہنچا کر چار یا پانچ منٹ قبل پہنچ سکے تو اس کا یہ عمل بلا کر اہت جائز ہے ، اور اگر وقت میں تنگی ہو تو ان کو چاہیۓ کہ اذان سے قبل یا نماز سے فارغ ہونے کے بعد اپنا تجارتی کام کرنے کا اہتمام کرے یا اس کے لۓ کسی کو اجرت پر رکھے، جبکہ بلا وضو اذان کہنا اگر چہ درست ہے ،مگر اس کی عادت بنالینا اچھا نہیں ہے، جس سے احتراز چاہیۓ، مگر ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا درست ہے، اور مسجد کی منتظمہ کمیٹی کا اسے پریشان کر نا درست نہیں۔
فی عون المعبود: وقال القارىء رواه أحمد وزاد ثم قال أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كنتم في المسجد فنودى بالصلاة فلا يخرج أحدكم حتى يصلي وإسناده صحيح انتهى قال الحافظ وفيه كراهة الخروج من المسجد بعد الأذان وهذا محمول على من خرج بغير ضرورة وأما إذا كان الخروج من المسجد للضرورة فهو جائز وذلك مثل أن يكون محدثا أو جنبا أو كان حاقنا أو حصل به رعاف أو نحو ذلك أو كان إماما بمسجد آخر اھ(2/ 169)۔
وفى الدر المختار: (وكره) تحريما للنهي (خروج من لم يصل من مسجد أذن فيه) جرى على الغالب والمراد دخول الوقت أذن فيه أو لا (إلا لمن ينتظم به أمر جماعة أخرى) أو كان الخروج لمسجد حيه ولم يصلوا فيه، أو لأستاذه لدرسه، أو لسماع الوعظ(2/ 54)۔
وفي رد المحتار: مطلب في كراهة الخروج من المسجد بعد الأذان. (قوله وكره تحريما للنهي) وهو ما في ابن ماجه «من أدرك الأذان في المسجد ثم خرج لم يخرج لحاجة وهو لا يريد الرجوع فهو منافق» وأخرج الجماعة إلا البخاري عن أبي الشعثاء قال " كنا مع أبي هريرة في المسجد، فخرج رجل حين أذن المؤذن للعصر. قال أبو هريرة: أما هذا فقد عصى أبا القاسم " والموقوف في مثله كالمرفوع بحر (قوله من مسجد أذن فيه) أطلقه، فشمل ما إذا أذن وهو فيه أو دخل بعد الأذان كما في البحر والنهر اھ (2/ 54)۔
وفى البحرالرائق: (قوله وكره خروجه من مسجد أذن فيه حتى يصلي وإن صلى لا إلا في الظهر والعشاء إن شرع في الإقامة) لحديث ابن ماجه «من أدرك الأذان في المسجد ثم خرج لم يخرج لحاجة وهو لا يريد الرجوع فهو منافق اھ (۲ / ۷۸ ) ۔
وفي بدائع الصنائع: (ومنها) أن يكون المؤذن على الطهارة لأنه ذكر معظم فإتيانه مع الطهارة أقرب إلى التعظيم وإن كان على غير طهارة بأن كان محدثا يجوز ولا يكره حتى لا يعاد في ظاهر الرواية اھ (1 / 151 )۔
وفي تحفة الأحوذي: قوله رجل أم قوما وهم له كارهون لأمر مذموم في الشرع وإن كرهوا لخلاف ذلك فلا كراهة قال بن الملك كارهون لبدعته أو فسقه أو جهله أما إذا كان بينه وبينهم کراهة عداوة بسبب أمر دنيوي فلا يكون له هذا الحكم اھ (۲ / ۲۸۸)۔
وفي قوت المغتذي على جامع الترمذي: عن الحسن، قال: سمعت أنس بن مالك، قال: " لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة: رجل أم قوما وهم له كارهون، وامرأة باتت وزوجها عليها ساخط، ورجل سمع حي على الفلاح ثم لم يجب "، وفي الباب عن ابن عباس، وطلحة، وعبد الله بن عمرو، وأبي أمامة،: «حديث أنس لا يصح، لأنه قد روي هذا الحديث عن الحسن عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل»،: «ومحمد بن القاسم تكلم فيه أحمد بن حنبل وضعفه، وليس بالحافظ» وقد كره قوم من أهل العلم: أن يؤم الرجل قوما وهم له كارهون فإذا كان الإمام غير ظالم فإنما الإثم على من كرهه " وقال أحمد، وإسحاق في هذا: إذا كره واحد أو اثنان أو ثلاثة فلا بأس أن يصلي بهم حتى يكرهه أكثر القوم" اھ (1/ 174)۔