السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ ! ہمارے ہاں پاکستان اور ہندوستان میں بہت سے لوگ سادات کی جانب اپنی نسبت کرتے ہیں اور سید کہلاتے ہیں ، عام اعتراض ہوتا ہے اتنے سید عرب میں نہیں ہیں تو پاکستان اور عجم علاقوں میں کہاں سے آگئے ، ہمارے ذمہ سادات حضرات کا ادب ہے اور بس ، اور ان حضرات کا دین کو عام کرنے کیلئے ہجرت کرنا اور ساری دنیا میں ان کی قبور کا ہونا یہ بھی ایک مسلم حقیقت ہے کیا یہ ممکن ہے یہ سب سادات کہلانے والے قرابت موالات یا قرابت عتاق کی وجہ سے اپنے آپ کو سادات کہتے ہوں؟ کتب فقہ کتاب الاسترقاق باب الموالاۃ میں مولی کو قرابت داروں میں شمار کیا گیا ہے اسی قرابت کی وجہ سے ہی تو مولی معتق (اسم۔فاعل) معتق (اسم مفعول) کی وراثت کا حقدار ہے ، اور عصبہ میں شمار ہوتا ہے، نیز ذوی الارحام سے بھی مقدم ہوتا ہے، اس گتھی کو سلجھا دیں ،آیا میرا یہ خیال درست ہے یا نہیں ؟ امید ہے جلد ہی توجہ فرمائیں گے۔
واضح ہو کہ ہاشم بن عبدِ مناف کی اولاد میں صرف پانچ افراد ( حضرت علی ، حضرت عباس ، حضرت جعفر ، حضرت عقیل ، اور حضرت حارث رضوان اللہ علیھم اجمعین ) کی اولاد ایسی ہے جن کا مؤمن اور مسلمان ہونیکے ساتھ ساتھ سلسلۂ نسب بھی آگے بڑھا ہے، اسی لئے فقہاءِ کرام ، محدثینِ عظام اور حضراتِ مفسرین رحمھم اللہ نے آل سے انہی افراد و شخصیات اور ان کی تمام اولادوں کو بھی مراد لیا ہے ، مذکور افراد اور ان کی تمام اولادیں نیز حضر علی رضی اللہ عنہ کی اولاد خواہ وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا سے ہو یا کسی دوسری بیوی سے وہ سب ہاشمی اور سید ہیں، اور ان کے علاوہ ان کے آزاد کردہ غلام بھی سید کہلائیں گے ، جہاں تک موجودہ دور میں سادات کی کثرت یا لوگوں کا اپنے آپ کو سید کہلانے کا تعلق ہے ، تو ان میں سے جن لوگوں کا نسب نامہ محفوظ ہے ، یا وہ اپنا سلسلۂ نسب ان پانچ حضرات تک یقینی طور پر منسوب کرسکتے ہیں ، تو وہ بلاشبہ سید کہلائیں گے ، البتہ ان میں سے بعض افراد کو قرابتِ موالات یا قرابتِ عتاق کی بنیاد پر سید قرار دینا اور آزاد کرنے والے کو اس کا عصبہ قرار دینا محتاجِ ثبوت ہے ، محض فرضی خیالات اور تصورات پر اس طرح کے احکام لاگو نہیں کئے جاسکتے ۔
کما فی الھدایۃ : ولا تدفع إلى بني هاشم ( الی قولہ ) و هم آل علي و آل عباس و آل جعفر و آل عقيل و آل الحارث بن عبد المطلب و مواليهم أما هؤلاء فلأنهم ينسبون إلى هاشم بن عبد مناف ونسبة القبيلة إليه وأما مواليهم فلما روي أن مولى لرسول الله صلى الله عليه وسلم سأله أتحل لي الصدقة فقال: لا أنت مولانا اھ (1/ 223)