کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری عمر تئیس(۲۳) سال ہے اور ایم،بی،اے کا سٹوڈنٹ ہوں ، دوسال قبل تبلیغ میں چار ماہ بھی لگائے تھے میرے والدین مجھے پینٹ شرٹ پہننے پر مجبور کر رہے ہیں، جبکہ میں پہننا نہیں چاہتا کیا اس کے پہننے کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں؟ یا میں اپنے والدین کو انکار کروں؟
واضح ہو کہ ایسی پینٹ پہننا جو کہ اتنی جست اور تنگ ہو کہ اس سے اعضاء کی بناوٹ اور حجم نظر آتا ہو جیسا کہ آج کل پینٹ کا کثرت سے رواج ہے تو اس کو پہننا اور کسی شخص کا اسے پہننے پر مجبور کرنا ناپسندیدہ اور مکروہ ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
جبکہ ایسی ڈھیلی ڈھالی اور کشادہ پینٹ جس سے واجب الستر اعضاء کی بناوٹ اور حجم نظر نہ آتا ہو اگرچہ اس کے پہننے کی شرعاً گنجائش ہے، لیکن فساق و فجار کا لباس ہونے کی وجہ سے اس کے پہننے سے بھی بچنا بہتر ہے۔
اس لیے سائل کے والدین کا ایسے لباس کا پسند کرنا اوراپنے بیٹے کو اس کے پہننے پر مجبور کرنا شرعاً و اخلاقاً کسی طرح درست نہیں ہے، بلکہ ان کو چاہیے کہ خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی صلحاء کا لباس خصوصاً شلوار قمیص جو کہ ہمارا قومی لباس اور خود نبی کریمﷺ کا پسند فرمودہ بھی ہے اسے اختیار کریں اور اپنے بچوں کو بھی اس کے پہننے اور اپنانے کی ترغیب دیں۔
و فی مشكاة المصابيح: عن أم سلمة قالت: كان أحب الثياب إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - القميص. رواه الترمذي وأبو داود (2/ 1243)
و فیه أیضاً: وعن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: رأى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - على ثوبين معصفرين فقال: «إن هذه من ثياب الكفار فلا تلبسها» وفي رواية: قلت: أغسلهما؟ قال: «بل احرقها» . رواه مسلم(2/ 1242)
و فی حاشية ابن عابدين: وعبارة شرح المنية: أما لو كان غليظا لا يرى منه لون البشرة إلا أنه التصق بالعضو وتشكل بشكله فصار شكل العضو مرئيا فينبغي أن لا يمنع جواز الصلاة لحصول الستر. اهـ. (1/ 410)
و فی موسوعة الفقه الإسلامي: اللباس ثلاثة أقسام: 1 - قسم حلال للذكور والإناث: وهو جميع أنواع الملابس التي لم يمنع الشرع منها. 2- وقسم حرام على الذكور والإناث: وهي الملابس المسروقة والمغصوبة ونحوها، وما فيه تشبه بالكفار، وما فيه تشبه كل واحد من الرجال والنساء بالآخر، وما فيه شهرة وخيلاء. (4/ 94) والله أعلم بالصواب!
کیا مرد کے لیے ہر وقت شلوار قمیص پہننا اور عورت کے لیے حجاب کرنا لازم ہے؟
یونیکوڈ لباس کے آداب و احکام 0