میرے والد نامناسب کپڑے پہنتے ہیں،جس میں ان کا عضو خاص(عورۃ) نظر آتا ہے،کیا ایک بیٹی ہونے کے ناطے میرا ان کو دیکھنا جائز ہے،اگر نہیں تو اس معاملہ میں کون گناہ گار ہوگا؟جبکہ میں نے ان کو سمجھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اپنے گھر میں نظریں نیچی کرنا میرے لیے دشوار ہے۔
سائلہ کے والد کا اس طرح کا لباس پہننا جس میں حجاب وستر نہ ہو جائز نہیں،اس طرح کا لباس پہننے سے وہ گناہ گار ہورہے ہیں،ان پر لازم ہے کہ اپنے محارم کے سامنے اپنے ستر کو مکمل چھپائے ،اگر وہ سائلہ سے نہ سمجھتے ہوں تو اپنی والدہ کے ذریعہ یا خاندان کے بڑوں کے ذریعہ ان کی فہمائش کی جائے،ان شاء اللہ اصلاح ہوجائےگی۔
قال اللہ تعالی: {وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ } [النور: 31]۔
وفی الدر المختار: (وتنظر المرأة المسلمة من المرأة كالرجل من الرجل) وقيل كالرجل لمحرمه والأول أصح سراج (وكذا) تنظر المرأة (من الرجل) كنظر الرجل للرجل (إن أمنت شهوتها) فلو لم تأمن أو خافت أو شكت حرم استحسانا كالرجل هو الصحيح في الفصلين تتارخانية معزيا للمضمرات (6/ 371)۔
کیا مرد کے لیے ہر وقت شلوار قمیص پہننا اور عورت کے لیے حجاب کرنا لازم ہے؟
یونیکوڈ لباس کے آداب و احکام 0