بعض پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں ٹائی باندھنے پر زور دیا جاتا ہے اور بغیر ٹائی کے بچے یا ملازم کو آنے کی اجازت نہیں ہوتی جب کہ بعض لوگ اسے گناہ اور بعض صلیب کا نشان سمجھتے ہیں تو کیا ٹائی باندھنے میں گناہ ہے ؟یا واقعی یہ صلیب کا نشان ہے؟ ٹائی کی کیا حقیقت ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرما کر ممنون فرمائیں۔
ٹائی مسلمانوں کے لباس کے بجائے غیرمسلم لباس کا حصہ ہے جسے پہننے میں تشبہ بالکفار و الفساق ہے، اس لیے بلاضرورت اس کا پہننا گناہ ہے، تاہم کسی ادارے میں اس کا استعمال قانوناً لازم ہو تو پھر باَمر ِمجبوری اس کی شرعاً گنجائش معلوم ہوتی ہے اور اس میں اُمید ہے گناہ بھی نہ ہوگا، تاہم مسلم اداروں کو اس کے استعمال کی پابندی سے احتراز چاہیے۔
و فی مشكاة المصابيح: وعنه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : «من تشبه بقوم فهو منهم». رواه أحمد وأبو داود(2/ 1246)۔
و فی مشكاة المصابيح: وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده - رضي الله عنهم - أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: «ليس منا من تشبه بغيرنا لا تشبهوا باليهود ولا بالنصارى فإن تسليم اليهود الإشارة بالأصابع وتسليم النصارى الإشارة بالأكف». رواه الترمذي(3/ 1319)۔
و فی مرقاة المفاتيح: عن ابن عمر (قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - (من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) : أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار، ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب. قلت: بل الشعار هو المراد بالتشبه لا غير الخ(7/ 2782)۔
کیا مرد کے لیے ہر وقت شلوار قمیص پہننا اور عورت کے لیے حجاب کرنا لازم ہے؟
یونیکوڈ لباس کے آداب و احکام 0