لباس کے آداب و احکام

عمامہ باندھنے کا مسنون طریقہ

فتوی نمبر :
60828
| تاریخ :
2008-04-23
آداب / آداب زندگی / لباس کے آداب و احکام

عمامہ باندھنے کا مسنون طریقہ

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عمامہ باندھنے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ آج کل جو تمام مکاتبِ فکر کے علماء عمامہ باندھتے ہیں کیا عمامہ باندھنے کا سنت طریقہ یہی ہے؟ حالانکہ کتبِ احادیث اور فقہ میں لکھا ہوا ہے کہ یہ شیطان کا طریقہ ہے، کیونکہ عمامہ باندھنے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ عمامے کا ایک پیچ حلق (ٹھوڑی) کے نیچے ہو۔
علامہ عینی لکھتے ہیں:
ففی عمدۃ القاری: وسئل مالک عن الذی یعتم بالعمامۃولا یجعلہا من تحت حلقہ فأنکرہا، وقال: ذلک من عمل النبط، ولیست من عمۃ الناس إلا أن تکون قصیرۃ لا تبلغ أو یفعل ذلک فی بیتہ أو فی مرضہ فلا بأس بہ اھ(21/ 307)۔
امام بیہقی لکھتے ہیں:
و فی شعب الایمان: عن طاوس قال: "فی الذی یلوی العمامۃ علی رأسہ، ولا یجعلہا تحت ذقنہ فان تلک عمۃ الشیطان" اھ(8/ 297)۔
علامہ ابن الحاج لکھتے ہیں:
و فی المدخل لابن الحاج:قَالَ الْامَامُ أَبُو بَکرٍ الطُّرْطُوشِی - رَحِمَہ اللَّہ - اقْتِعَاطُ الْعَمَائِمِ هھوَ التَّعْمِیمُ دُونَ حَنَک، وَهھوَ بِدْعَۃ مُنْکرَۃ قَدْ شَاعَتْ فِی بِلَادِ الْاسْلَامِ، وَنَظَرَ مُجَاھدٌ - رَحِمَہ اللَّہ- یوْمًا الی رَجُلٍ قَدْ اعْتَمَّ وَ لَمْ یحْتَنِک فَقَالَ: اقْتِعَاطٌ ک اقْتِعَاطِ الشَّیطَانِ ذَلِک عِمَامَۃ الشَّیاطینِ وَعَمَائِمُ قَوْمِ لُوطٍ وَأَصْحَابِ الْمُؤْتَفِکاتِ الخ (1/ 140)۔
شیخ عبد القادر جیلانی لکھتے ہیں:
و فی الغنیۃ لطالبی طریق الحق: ویکرہ الاقتعاط وھو التعمیم لغیر الحنک ویستحب التلحی وھو إذا کان بالحنک اھ (۱/۲۸، فصل فی آداب اللباس، مکتبه خاور لاہور)۔
اور علامہ شامی لکھتے ہیں:
و فی رد المحتار: وأدار العمامۃالی تحت حنکہ رواہ سعید بن منصور. اهـ. (2/ 202)۔
علامہ شامی لکھتے ہیں:
و فی رد المحتار: کمن استقبح من آخر جعل بعض العمامۃ تحت حلقہ أو إحفاء شاربہ اهـ. (4/ 222)۔
جناب مفتی صاحب! ان دلائل سے معلوم ہوا کہ آج کل جو عمامہ باندھا جاتا ہے وہ شیطان کا عمامہ ہے،لہٰذا ان دلائل کی وضاحت فرماتے ہوئے آج کل جو عمامہ باندھا جاتا ہے، اس کی دلیل عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عمامہ باندھنا نبی کریم ﷺ کی سننِ عادیہ میں سے ہے اور احادیثِ مبارکہ میں اس کے فضائل اور ترغیب بھی وارد ہے، چنانچہ نبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ عمامہ باندھا کرو اس سے حلم بڑھتا ہے۔ اور عمامہ باندھنا چونکہ سننِ عادیہ میں سے ہے، اس لیے حالات و واقعات کی بناء پر کتبِ شمائل میں اس کے متعدد طرق بھی وارد ہوئے ہیں، اس لیے ہر وقت کے لیے کسی ایک طریقے کو درست قرار دے کر بقیہ کو غلط قرار دینا قطعاً درست نہیں، بلکہ یہ علمی خیانت پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز ہے جس سے احتراز لازم ہے۔ جبکہ مذکور فی السوال گلے کے نیچے سے پیچ گزارنے کی وجہ کتب میں یہ لکھی ہے کہ وہ لوگ چونکہ عموماً جہاد اور جنگ و جدل اور سفر کی حالت میں رہتے تھے اورسفر گھوڑوں، خچروں اور اونٹوں وغیرہ پر کیا کرتے تھے اور تحنیک سے چونکہ گردن گرمی، سردی اور گردو غبار وغیرہ سے محفوظ ہو جاتی ہے، اس وجہ سے وہ یہ طریقہ اختیار کیا کرتے تھے، اس لیے اس حالت کو عموم پر محمول کرنا اور دیگر موقع کےلیے عام سمجھ لینا اور اسی طرزِ عمل کو درست طریقہ اور دوسرے طرزِ عمل کو ناجائز قرار دے کر اُسے شیطانی عمامہ کالقب دینا بلاشبہ ناجائز ہے، سائل کو اپنے اس طرز ِعمل سے احتراز اور کتبِ شمائل کے مطالعہ کی ضرورت ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی مصنف ابن أبي شيبة:عن سليمان بن أبي عبد الله، قال: "أدركت المهاجرين الأولين يعتمون بعمائم كرابيس سود، وبيض، وحمر، وخضر، وصفر، يضع أحدهما العمامة على رأسه، ويضع القلنسوة فوقها، ثم يدير العمامة هكذا , يعني: على كوره لا يخرجها من تحت ذقنه" اھ(5/ 181)۔
و فیه أیضاً: عن ابن طاوس، عن أسامة: «كان يكره أن يعتم، أن يجعل تحت لحيته، وحلقه من العمامة» اھ(5/ 181)۔
و فی سبل الهدى والرشاد: قال القاضي أبو الوليد بن رشد رحمه الله تعالى: سئل مالك - رضي الله تعالى عنه - عن المعتم، ولا يدخل تحت ذقنه من العمامة شيئا، فكره ذلك، قال القاضي أبو الوليد: إنما كره ذلك مالك لمخالفته فعل السلف الصالح. اھ(7/ 281)۔
و فی المواهب اللدنية بالمنح المحمدية: فقد كانت سيرته- صلى الله عليه وسلم- فى ملبسه أتم وأنفع للبدن وأخفه عليه، فإنه لم تكن عمامته بالكبيرة التى يؤذى حملها ويضعفه ويجعله عرضة للآفات، كما يشاهد من حال أصحابها ولا بالصغيرة التى تقصر عن وقاية الرأس من الحر والبرد بل وسطا بين ذلك، وكان يدخلها تحت حنكه، فإنها تقى العنق من الحر والبرد، وهو أثبت لها عند ركوب الخيل والإبل، والكر والفر، وكذلك الأردية والأزر أخف على البدن من غيرها. وقد أطنب ابن الحاج فى المدخل فى الاستدلال لاستحباب التحنيك، ثم قال: وإذا كانت العمامة من باب المباح فلابد فيها من فعل سنن تتعلق بها، من تناولها باليمين والتسمية والذكر الوارد، إن كانت مما ليس جديدا، وامتثال السنة فى صفة التعميم، من فعل التحنيك والعذبة. وتصغير العمامة يعنى سبعة أذرع أو نحوها، يخرجون منها التحنيك والعذبة، فإن زاد فى العمامة قليلا لأجل حر أو برد فيسامح فيه. ثم قال بعد أن ذكر قوله: وَما آتاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَما نَهاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا، فعليك بأن تتسرول قاعدا وتتعمم قائما. انتهى. (2/ 184)۔
و فی سبل الهدى والرشاد: وقال الحافظ عبد الحق الإشبيلي - رحمه الله تعالى - : وسنة العمامة بعد فعلها أن يرخي طرفها، ويتحنك به، فإن كان بغير طرف ولا تحنيك، فذلك يكره عند العلماء، والأولى أن يدخلها تحت حنكه، فإنها تقي العنق الحر والبرد، وهو أثبت لها عند ركوب الخيل والإبل والكرّ والفرّ، وقد أطنب ابن الحاج في المدخل في استحباب التحنك، ثم قال: وإذا كانت العمامة من باب المباح فلا بد فيها من فعل سنن تتعلق بها، من تناولها باليمين، والتسمية، والذكر الوارد إن كانت مما يلبس جديدا، أو امتثال السنة في صفة التعميم، من فعل التحنيك، والعذبة، وتصغير العمامة يعني سبعة أذرع أو نحوها، يخرجون منها التحنيك، والعذبة، فإن زاد من العمامة قليلا لأجل حر أو برد، فيتسامح فيه، ثم قال: فعليك أن تتعمم قائما وتتسرول قاعدا. (7/ 281)۔
و فی منتهى السؤل على وسائل الوصول إلى شمائل الرسول: قال السيوطيّ في «مختصر النهاية»: والتحنّك: التلحّي؛ وهو أن يدير العمامة من تحت الحنك- (كطريق المغاربة) ، أي: لما فيه من الفوائد التي منها أنّها تقي العنق الحرّ والبرد، وتثبتها عند ركوب الخيل وغيرها، وتغني عما اتّخذه كثيرون من كلاليب عوضا عن الحنك، وهذه اللّبسة أنفع اللّبسات، وأبعدها من التكلّف والمشقّة الخ(1/ 513)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60828کی تصدیق کریں
0     4739
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • حضورﷺ سے کتنے رنگ کا عمامہ پہننا ثابت ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   لباس کے آداب و احکام 2
  • پرنسپل کا اسٹاف کے لئے پنٹ شرٹ پہننے کولازم قراردینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   لباس کے آداب و احکام 0
  • عمامہ یا پگڑی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   لباس کے آداب و احکام 1
  • خواتین کے تنگ اونچے پاجامے اور اسکرٹ بنانے والی فیکٹری میں ملازمت

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   لباس کے آداب و احکام 1
  • ٹائی پہننے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   لباس کے آداب و احکام 0
  • مرد کے لئے مصنوعی ریشم کا لباس پہننا کیسا ہے

    یونیکوڈ   لباس کے آداب و احکام 1
  • کیا مرد کے لیے ہر وقت شلوار قمیص پہننا اور عورت کے لیے حجاب کرنا لازم ہے؟

    یونیکوڈ   لباس کے آداب و احکام 0
  • اُلٹی چپل کو سیدھا کرنا اور اسپرے کپڑوں پر لگانا

    یونیکوڈ   لباس کے آداب و احکام 1
  • ’’جینز‘‘ پہننے کا حکم

    یونیکوڈ   لباس کے آداب و احکام 1
  • عورتوں کا کپڑوں میں کالر لگانا

    یونیکوڈ   لباس کے آداب و احکام 2
  • عمامہ باندھنے کا مسنون طریقہ

    یونیکوڈ   لباس کے آداب و احکام 0
  • ٹائی پہننے کا حکم

    یونیکوڈ   لباس کے آداب و احکام 0
  • صرف نماز کے لیے شلوار ٹخنوں سے اوپر کرنا

    یونیکوڈ   لباس کے آداب و احکام 0
  • مسنون و مشروع لباس

    یونیکوڈ   لباس کے آداب و احکام 0
  • سیاہ رنگ کے علاوہ کسی اور رنگ کا عبایا پہننا

    یونیکوڈ   لباس کے آداب و احکام 0
  • کپڑوں پر سپرے لگانا اور اُلٹے چپل سیدھا کرنا

    یونیکوڈ   لباس کے آداب و احکام 0
  • کس رنگ کا عمامہ شرعاً ثابت ہے؟

    یونیکوڈ   لباس کے آداب و احکام 0
  • نومولود بچے کو چالیس دن سے زیادہ ایک کپڑا پہنانے کا حکم

    یونیکوڈ   لباس کے آداب و احکام 0
  • مرد وزن کے لئے سیاہ لباس پہننے کا حکم

    یونیکوڈ   لباس کے آداب و احکام 0
  • کالے جوتے پہننے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   لباس کے آداب و احکام 0
  • محارم کے سامنے ایسا لباس جس میں ستر نظر آئے پہننے کا حکم

    یونیکوڈ   لباس کے آداب و احکام 0
Related Topics متعلقه موضوعات