گناہ و ناجائز

بیوہ خاتون کاگناہ سے بچنے کیلئے خود لذتی کرنا

فتوی نمبر :
64278
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بیوہ خاتون کاگناہ سے بچنے کیلئے خود لذتی کرنا

السلامُ علیکم!
میری عمر پینتیس سال ہے،میرے شوہرکی وفات ہو گئی ہے،میری دو چھوٹی بچیاں ہیں، بچیوں کی اچھی پرورش کی وجہ سے میں نے دوسری شادی نہیں کی،شوہر کی وفات کو ڈیڑھ سال ہو گیا ہے ,مجھے پچھلے کئی ماہ سے صحیح سے نیند نہیں آ رہی ہے، رات بھر جاگتی رہتی ہوں، جس کی وجہ سے صحت متاثر ہو رہی ہے، بہت کوشش کی لیکن نیند نہیں آتی، بہت ٹوٹکے بھی کیے ہیں، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، مجھے کسی نے یہ مشورہ دیا جس کے بارے میں مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ یہ جائز ہے یا نہیں، کیا ایسی صورت میں جب کہ میں شادی نہیں کر سکتی ہوں تو بہتر نیند کے لئے مہینہ میں ایک دو مرتبہ اپنے ہاتھوں سے خود لذتی کر نا جائز ہے ؟اگر یہ جائز نہیں ہے تو کیا مجبوری میں ایسا کر کے توبہ و استغفار سے تلافی ہو سکتی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کا نیند نہ آنے کیو جہ سے ہاتھوں وغیرہ کے ذریعے خود لزتی کرنا جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے،البتہ اگر نیند نہ آنا غلبۂ شہوت کی وجہ سے ہو تو ایسی صورت میں مناسب رشتہ ملنے کے بعدسائلہ کو والدین اور اولیاء کی رضامندی سے رشتہ کا اہتمام کرنا چاہیئے، تاہم اگر کسی عذر کیوجہ سے سائلہ کا ارادہ شادی کرنے کانہ ہو توسائلہ کو گرم غذائیں ترک کرکے کثرت سے روزے رکھنے اور اچھی صحبت اختیار کرنے کا اہتمام کرنا چاہیئے،ان شاء اللہ امید ہے کہ سائلہ کی مشکلات ختم ہو جائیں گی۔

مأخَذُ الفَتوی

فی صحیح البخاری : عن عبد الرحمن بن يزيد قال : دخلت مع علقمة و الاسود على عبد الله ، فقال عبد الله : كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم شبابا لا نجد شيئا ، فقال لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم:" يا معشر الشباب ، من استطاع الباءة فليتزوج ، فإنه اغض للبصر، و احصن للفرج ، و من لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له وجاء"(5066)-
و فی جمع الجوامع المعروف ب الجامع الكبير :"سبعة لا ينظر الله إليهم يوم القيامة و لا يزكيهم ، و لا يجمعهم مع العالمين، يدخلهم النار أول الداخلين إلا أن يتوبوا ، إلا أن يتوبوا ، إلا أن يتوبوا ، فمن تاب تاب الله عليه , الناكح يده، و الفاعل و المفعول به و مدمن الخمر و الضارب أبويه حتى يستغيثا و المؤذى جيرانه حتى يلعنوه و الناكح حليلة جاره". الحسن بن عرفة في جزئيه ، هب عن أنس - رضي الله عنه –(5/234)-
و فی الدر المختار : الاستمناء بالكف و إن كره تحريما لحديث «ناكح اليد ملعون» و لو خاف الزنى يرجى أن لا وبال عليه (2/399)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شہزاد ذوالفقار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 64278کی تصدیق کریں
| | |
0     774
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات